آج بیگم بڑے دنوں بعد تنک کے بولی
نہ جانے آج کیسے منہ کو اپنے کھولی
پڑوس میں دیکھو، نیا ٹی وی آیا ہے
ہمارا اب چلتا نہیں بولتے بولتے ڈولی
دنیا بدل رہی ہے اب وہ پرانی چیزیں
اب کچھ نہیں بچا الماری کو ہے ٹٹولی
چھٹی سے آئے ہو، ریال کما کر لائے ہو
نکالو جیب سے کیا کھاتے رہے سمولی
خرچ کر دیے میں نے سب جو لایا تھا یہاں
لوگوں کے سامنے پھیلاؤں کیسے جھولی
پانچ دس بچا رکھے ہیں کچھ بدلنے کیلئے
خوش ہوگئی بیوی خوب مچل کے ڈولی
تم نے سچ کہا ہے، بدل دو پرانی چیزیں
تم بھی لگتی پرانی بولو میری بھولی
دل کے ارمان مچل رہے اب تو خوب یہاں
یہ سن کر بیوی بستر میں جاکے رولی
اچھی ہیں سب چیزیں نہ بدلنا کبھی
گھر میں کھانے کو صرف بچی ہے مولی