تقاضائے ادب
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahقابل رشک ہے جوتجھ سے شناسائی ہو تصورات نے مل کرتری بزم سجائی ہو
ایک ساتھ رہیں ہم ہماری کبھی نہ جدائی ہو دل میں ہویادتیری گوشہء تنہائی ہو
پھرتوخلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
سامنے میرے رخ انورہواجل آئی ہو کلمہ طیبہ زبان پرہواجل آئی ہو
محبتوں کااتنا اثرہواجل آئی ہو آستانہ پہ تیرے سرہواجل آئی ہو
اوراے جان جہاں توبھی توتماشائی ہو
نہیں پائی کسی نے بھی اس سے بڑی راحت نہیں ہے میسرکسی اورجگہ پہ ایسی راحت
متلاشی ہیں سب سکون کے چاہتے ہیں سبھی راحت اس کی قسمت پہ فدا تخت شاہی کی راحت
خاک طیبہ پہ جسے چین کی نیندآئی ہو
میرے مصطفی کاملا جواب نہیں عالم کو محبوب کی موجودگی ہوتا عذاب نہیں عالم کو
چھپے ہیں عالم سے حجاب نہیں عالم کو اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگرجلوہ کریں کون تماشائی ہو
عطاء کرتے ہیں امت کو رب سے لیکے رحمت دوجہاں بن کرآئے رسول میرے
بھیجودرود ان پہ سلام بھیجوشام سویرے آج جوعیب کسی پرنہیں کھلنے دیتے
کب وہ چاہیں گے میری حشرمیں رسوائی ہو
خدافرمایا نبی سے کوئی آگے نہ بڑھے تقاضائے ادب ہے پاؤں کسی کا نہ پڑے
ہم عاصیوں پہ قائم ان کا سایہ رہے یہی منظورتھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ایسے یکتاکے لیے ایسی ہی یکتائی ہو
امت کی بخشش کے لیے طویل ہیں قیام سجدے جاں کے دشمنوں کو معاف کیا نہیں لیے بدلے
پھیلے ہوئے ہیں چارسو جودوسخاکے چرچے کبھی ایسا نہ ہواان کے کرم کے صدقے
ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو
گزریں یادنبی میں صدیقؔ باقی ہیں جتنی سانسیں چھپ جائیں عیب سب کے اپنے من میں جھانکیں
ملے دردمندایسا درداپنے جس سے بانٹیں بندجب خواب اجل سے ہوں حسنؔ کی آنکھیں
اس کی نظروں میں تیراجلوہ زیبائی ہو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






