تو ہی واحد تو ہی ابدی تو ہی واجب الوحود

Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston

تو ہی واحد تو ہی ابدی تو ہی واجب الوحود
تو ہی دائمی تو ہی تجلی عرش بریں میں

تو ہی اول تو ہی آخر تو ہی ظاہر تو ہی باطن
تو ہی ارفع تو ہی رافع تو ہی شافع تو ہی واسع

ادراک کے اشاروں میں کشف کے نظاروں میں
رکوع وسجود میں تو ہی تہجد کے سرور میں
 

Rate it:
Views: 928
19 Jun, 2021