Poetries by Jan Alam Swat
شعلہ لباس اُس نے تھا پہنا ایسا سُرخ جیسے شعلہ
سراپا اُسکا لاجواب مثل سُرخ جیسے شعلہ
یوں محفل میں ٹہل رہی تھی جیسے شعلہ
اُس کی دراز زلفیں ہواؤں سے کھیل رہی تھی
آداوں کے چال میں ہرنی سی چل رہی تھی
دل پر میرے وہ یوں لپک رہی تھی جیسے شعلہ
گفتارمیں اُس کی جادو اور ہونٹوں پر شرارت تھی
نظروں میں اُس کی شوخی اور دل میں محبت تھی
جلووں کو دکھاتے وہ یو ں بھڑک رہی تھی جیسے شعلہ
نظروں اور اشاروں سے نغمہ عشق گا رہی تھی
آنکھوں کے راستے وہ دل میں اُتر رہی تھی
مجھ کو راکھ کرتے یوں سلگ رہی تھی جیسے شعلہ Jan Alam Swat
سراپا اُسکا لاجواب مثل سُرخ جیسے شعلہ
یوں محفل میں ٹہل رہی تھی جیسے شعلہ
اُس کی دراز زلفیں ہواؤں سے کھیل رہی تھی
آداوں کے چال میں ہرنی سی چل رہی تھی
دل پر میرے وہ یوں لپک رہی تھی جیسے شعلہ
گفتارمیں اُس کی جادو اور ہونٹوں پر شرارت تھی
نظروں میں اُس کی شوخی اور دل میں محبت تھی
جلووں کو دکھاتے وہ یو ں بھڑک رہی تھی جیسے شعلہ
نظروں اور اشاروں سے نغمہ عشق گا رہی تھی
آنکھوں کے راستے وہ دل میں اُتر رہی تھی
مجھ کو راکھ کرتے یوں سلگ رہی تھی جیسے شعلہ Jan Alam Swat
اَنسو خشک جب ہوئے آپ کی یادوں میں بے وفا اپنا نہ بنا کر میرا دل تم نے توڑ دیا
فناہ کی ارزو لے کر جینا ہم نے چھوڑ دیا
نگاہ اپکی جب جھکی طلب ستائش نہ رہی
آئینوں کو سارے توڑ کر سجنا ہم نے چھوڑ دیا
میرے سنگ ٹھکرا کر احسان آپ نے جب کیا
آہوں کو اپنا کر ہنسنا ہم نے چھوڑ دیا
اَنسو خشک جب ہوئے آپ کی یادوں میں بے وفا
سکتو ں کو اپنا کر رُونا ہم نے چھوڑ دیا
خوابوں میں تم آکر جب سے مجھ کو ستاتی ہو
کاغذ قلم کو اُٹھا کر سُونا ہم نے چھوڑ دیا
تیرا سنگ نہیں جس میں اُس جہاں کو کیا کروں
بزرگی کو اپنا کر مچلنا ہم نے چھوڑ دیا
دیدار عیدوں سے منسلک تھا وہ بھی نہیں رہا
آپ نے آنا چھوڑ دیا عید منانا ہم نے چھوڑ دیا Jan Alam Swat
فناہ کی ارزو لے کر جینا ہم نے چھوڑ دیا
نگاہ اپکی جب جھکی طلب ستائش نہ رہی
آئینوں کو سارے توڑ کر سجنا ہم نے چھوڑ دیا
میرے سنگ ٹھکرا کر احسان آپ نے جب کیا
آہوں کو اپنا کر ہنسنا ہم نے چھوڑ دیا
اَنسو خشک جب ہوئے آپ کی یادوں میں بے وفا
سکتو ں کو اپنا کر رُونا ہم نے چھوڑ دیا
خوابوں میں تم آکر جب سے مجھ کو ستاتی ہو
کاغذ قلم کو اُٹھا کر سُونا ہم نے چھوڑ دیا
تیرا سنگ نہیں جس میں اُس جہاں کو کیا کروں
بزرگی کو اپنا کر مچلنا ہم نے چھوڑ دیا
دیدار عیدوں سے منسلک تھا وہ بھی نہیں رہا
آپ نے آنا چھوڑ دیا عید منانا ہم نے چھوڑ دیا Jan Alam Swat
قطرہ محبت نہ مجھے طلب تیرے ریشمی سلگتے زُلف کی
نہ مانگتاہوں تجھ سے تیرے حُسن کا کتاب
نہ تمنا تیرے لبوں کے سرخ گلاب کی
نہ کہتا ہوں کہ تو دے نرم نازک تیرے رُخسار
نہ طلب شوق صراحی نما گردن ملائم و لاجواب
نہ تیرے مست نین اُس کے جام و شراب
نہ مثل ملائی سفید مریں تیرا شباب
نہ سفید جھلملاتے موتیوں کے طرح دانت
نہ مانگوں تیرے سینے کا میں محراب
نہ کہتاہوں کہ ہٹادو اپنے جلوں سے تو نقاب
بس اک شے کی تمنا ہے تجھ سے میری جان
دریائے محبت سے اک قطرہ کردو میرے نام Jan Alam Swat
نہ مانگتاہوں تجھ سے تیرے حُسن کا کتاب
نہ تمنا تیرے لبوں کے سرخ گلاب کی
نہ کہتا ہوں کہ تو دے نرم نازک تیرے رُخسار
نہ طلب شوق صراحی نما گردن ملائم و لاجواب
نہ تیرے مست نین اُس کے جام و شراب
نہ مثل ملائی سفید مریں تیرا شباب
نہ سفید جھلملاتے موتیوں کے طرح دانت
نہ مانگوں تیرے سینے کا میں محراب
نہ کہتاہوں کہ ہٹادو اپنے جلوں سے تو نقاب
بس اک شے کی تمنا ہے تجھ سے میری جان
دریائے محبت سے اک قطرہ کردو میرے نام Jan Alam Swat
ساقی ساقی آج مےخانے میں بے حساب رکھنا
ہرایک جام بنام اپنے شباب رکھنا
لفظوں کے معنیوں میں دقت نہ ہو مجھے
یوں واضح اپنے چہرے کا تو کتاب رکھنا
تار زلف پے نغمہ سرائی کا شیدائی ہوں
آغوش جان میں سر اپنا مثل رباب رکھنا
موج عشق میں یوں بسا رہے طوفان
ہر پل برپا تو محبت میں انقلاب رکھنا
جسے دیکھ کر میرا دل مرنے کو مچلتا ہے
حسین پھول تو زلفوں میں یہ گلاب رکھنا
میرے بیاں پے جو بھڑکتا ہے سلگتا ہے
نام اُسکا تُو رقیب خانہ خراب رکھنا Jan Alam Swat
ہرایک جام بنام اپنے شباب رکھنا
لفظوں کے معنیوں میں دقت نہ ہو مجھے
یوں واضح اپنے چہرے کا تو کتاب رکھنا
تار زلف پے نغمہ سرائی کا شیدائی ہوں
آغوش جان میں سر اپنا مثل رباب رکھنا
موج عشق میں یوں بسا رہے طوفان
ہر پل برپا تو محبت میں انقلاب رکھنا
جسے دیکھ کر میرا دل مرنے کو مچلتا ہے
حسین پھول تو زلفوں میں یہ گلاب رکھنا
میرے بیاں پے جو بھڑکتا ہے سلگتا ہے
نام اُسکا تُو رقیب خانہ خراب رکھنا Jan Alam Swat
جامِ عشق جامِ عشق پلانے میں کوئی ہم سا پارسا نہیں
کسی کو انگلیوں پر نچانے میں کوئی اُن سا رہنما نہیں
عشق تو اِک سے کرناہے ہمیں فقط اُن سے دِل لگی ہے
ہم رُوتے بچے کے مانند اچھا اُن سا کوئی کھلونا نہیں
ہم دو ماہرہیں اس زمانے کی دِل لگی میں
دونوں باخبرہیں کہ ہم سا کوئی کمینہ نہیں
وہ پھنس کربھی نکلتے ہیں ہم پکڑ کر بھی چھوڑ تے ہیں
ٹائم پاس کے لیے اِس سے بہتر کوئی ڈراما نہیں
ہم کیا چاہتے ہیں یہ ہم دونوں جانتے ہیں
پھر بھی دُور دُور ہیں خراب اتنا بھی زمانہ نہیں
وہ نوٹوں کے طلبگار ہم دِل کے طلبگا ر ہیں
وہ دِل نہیں دیتے جیب میں نوٹ جو تگڑا نہیں
تُو مجھ کو ہدایت دے اور اُنکو شرافت دے
ہم دونوں تو دِیوانے ہیں تجھ سابہتر کوئی خیرخواہ نہیں Jan Alam Swat
کسی کو انگلیوں پر نچانے میں کوئی اُن سا رہنما نہیں
عشق تو اِک سے کرناہے ہمیں فقط اُن سے دِل لگی ہے
ہم رُوتے بچے کے مانند اچھا اُن سا کوئی کھلونا نہیں
ہم دو ماہرہیں اس زمانے کی دِل لگی میں
دونوں باخبرہیں کہ ہم سا کوئی کمینہ نہیں
وہ پھنس کربھی نکلتے ہیں ہم پکڑ کر بھی چھوڑ تے ہیں
ٹائم پاس کے لیے اِس سے بہتر کوئی ڈراما نہیں
ہم کیا چاہتے ہیں یہ ہم دونوں جانتے ہیں
پھر بھی دُور دُور ہیں خراب اتنا بھی زمانہ نہیں
وہ نوٹوں کے طلبگار ہم دِل کے طلبگا ر ہیں
وہ دِل نہیں دیتے جیب میں نوٹ جو تگڑا نہیں
تُو مجھ کو ہدایت دے اور اُنکو شرافت دے
ہم دونوں تو دِیوانے ہیں تجھ سابہتر کوئی خیرخواہ نہیں Jan Alam Swat
آزاد پنچھی مجھ میں بھی اُڑنے کا امتزاج ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
میں اُڑتا فضاؤں میں چہکتا ہواؤں میں
خوشی کے نغمیں گاتا مستی کے غوطے لگاتا
دنیا کے ہر غم سے میں آزاد ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
نہ فکر ہوتا معاش کا نہ غم ہوتا عذاب کا
وادیوں میں بھٹکتا نظاروں میں ٹہلتا
کسی شاخ پر ایک گھونسلا آباد ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
میں غولوں میں گھومتا سیر دُنیا کی کرتا
پہاڑوں پر اُڑتا ابشاروں میں اُترتا
میرے سنگ میرا دلدار ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
عشق ہم دونوں کا ہوتا رسم رواج دنیا کا نہ ہوتا
دن پیار میں گزرتا رات دیدار میں گزارتا
اپنی اس دُنیا میں صرف پیار ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا Jan Alam Swat
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
میں اُڑتا فضاؤں میں چہکتا ہواؤں میں
خوشی کے نغمیں گاتا مستی کے غوطے لگاتا
دنیا کے ہر غم سے میں آزاد ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
نہ فکر ہوتا معاش کا نہ غم ہوتا عذاب کا
وادیوں میں بھٹکتا نظاروں میں ٹہلتا
کسی شاخ پر ایک گھونسلا آباد ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
میں غولوں میں گھومتا سیر دُنیا کی کرتا
پہاڑوں پر اُڑتا ابشاروں میں اُترتا
میرے سنگ میرا دلدار ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا
عشق ہم دونوں کا ہوتا رسم رواج دنیا کا نہ ہوتا
دن پیار میں گزرتا رات دیدار میں گزارتا
اپنی اس دُنیا میں صرف پیار ہوتا
کاش میں اک پنچھی آزاد ہوتا Jan Alam Swat
ایک خواب دُور آسمان پرکوئی رستہ نظر آئے مجھے
کوئی نازنین اُس جہاں میں بلائے مجھے
جہاں بستیاں فقط دل والوں کی ہو ں
جو نفرت نہ جانے اور پیار سکھائے مجھے
ٹوٹا سااک مکان اس بستی میں میسر ہو
میری طرح اک رُوح پرور بھی مل جائے مجھے
دن خوشیوں بھرا رات صدیوں پر ہو محیط
دن کو بہلاکر رات کوبانہوں میںسلائے مجھے
نہ فکر معاش ہو نہ خوفِ جزا و سزا
شراب حلال ہو اور اپنے ہاتھوں سے پلائے مجھے
نہ مستقبل کا خیال ہو نہ بیماریوں کا ہو یلغار
میں اُس پر مر مٹوں اور وہ بس چاہے مجھے Jan Alam Swat
کوئی نازنین اُس جہاں میں بلائے مجھے
جہاں بستیاں فقط دل والوں کی ہو ں
جو نفرت نہ جانے اور پیار سکھائے مجھے
ٹوٹا سااک مکان اس بستی میں میسر ہو
میری طرح اک رُوح پرور بھی مل جائے مجھے
دن خوشیوں بھرا رات صدیوں پر ہو محیط
دن کو بہلاکر رات کوبانہوں میںسلائے مجھے
نہ فکر معاش ہو نہ خوفِ جزا و سزا
شراب حلال ہو اور اپنے ہاتھوں سے پلائے مجھے
نہ مستقبل کا خیال ہو نہ بیماریوں کا ہو یلغار
میں اُس پر مر مٹوں اور وہ بس چاہے مجھے Jan Alam Swat