جلوہ ء مصطفی کلام
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahجو شب ہجر میں گزرتی ہے سنایا نہیں کرتے
زخم جگر کے ان طبیبوں کو دکھایا نہیں کرتے
رکھتے ہیں سب کو نظروں میں گرایا نہیں کرتے
امت کی بخشش تک سر سجدوں اٹھایا نہیں کرتے
حدیث درد کے عنوان بتلایا نہیں کرتے
نیاز و ناز کی باتوں کودہرایانہیں کرتے
سمجھنے کے ہیں یہ اسرار سمجھایانہیں کرتے
خدامعلوم کیا لاتے تھے کیا لایا نہیں کرتے
کوئی خالی تو جبریل امین آیا نہیں کرتے
میعار یہ عشق ومحبت کا یا ں انوکھا ہے
سرکار کو جگانے کا انداز جبریل نرالا ہے
مقام قاب قوسین سے آگے اوادنیٰ ہے
اللہ کے جلووں میں گم جلوہ ء مصطفی ہے
کچھ اس انداز سے بخت شب معراج چمکا ہے
اجالا تو اجالا ہے اندھیرا بھی اجالا ہے
جو پردہ مدتوں سے درمیاں تھا آج الٹا ہے
محمد عرش پہ بیٹھے ہیں چپ خالق یہ کہتا ہے
تمہارا گھر ہے اپنے گھر میں شرمایا نہیں کرتے
تیری عظمتیں ہر لمحہ بلند کریں گے عہد کرتے ہیں
تمہاری مرضی کے مطابق چلیں گے عہد کرتے ہیں
آیات قرآنی میں تیری نعت پڑھیں گے عہد کرتے ہیں
خلق خدا کے سامنے اعزاز بخشیں گے عہد کرتے ہیں
ہوا ارشاد حق ہم مان لیں گے عہد کرتے ہیں
ہم اپنے وعدہ پر قائم رہیں گے عہد کرتے ہیں
سر محشر تمہارا دم بھریں گے عہد کرتے ہیں
تمہیں امت کا غم ہے بخش دیں گے عہد کرتے ہیں
میرے محبوب ہم جھوٹی قسم کھایانہیں کرتے
ہیں آدم نبی نوح نبی اور موسیٰ کلیم اللہ
ابراہیم اسحاق اسماعیل ادریس یحیٰ
یعقوب یوسف شعیب زکریاداوود عیسیٰ
لانفرق بینھم فرمان ہے قرآن میں خدا کا
ہوئے تخلیق پیغمبر ہزاروں اک سے اک اعلیٰ
تمہیں کو منتخب ہم نے کیا محبوب البتہ
تمہیں پہ شیفتہ ہے دل ازل سے یا رسول اللہ
تمہیں سے اس قدر ہم کو محبت ہو گئی ورنہ
کسی کو بھی ہم اپنے پاس بلوایا نہیں کرتے
شب اسریٰ کی رفعتیں ہیں قلب مومن تک
عشق رسول کی شمعیں ہیں قلب مومن تک
رحمت دوجہاں کی رحمتیں ہیں قلب مومن تک
صدیق اہلبیت سے محبتیں ہیں قلب مومن تک
کتاب معرفت کی آیتیں ہیں قلب مومن تک
خدائے لم یزل کی برکتیں ہیں قلب مومن تک
ہلال وبدر کی سب رونقیں ہیں قلب مومن تک
قمر گیسوئے احمد کی حدیں ہیں قلب مومن تک
یہ ہیں رحمت کے بادل ہر جگہ چھایا نہیں کرتے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں







