حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
Poet: شہریار By: Hassan, Abbottabadکھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں
سمندروں کے کناروں پہ ریت کے گھر ہیں
نہ کوئی کھڑکی نہ دروازہ واپسی کے لیے
مکان خواب میں جانے کے سیکڑوں در ہیں
گلاب ٹہنی سے ٹوٹا زمین پر نہ گرا
کرشمے تیز ہوا کے سمجھ سے باہر ہیں
کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا سراب سب کا ہے
سبھی ہیں پیاس کے مارے سبھی برابر ہیں
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں
More Islamic Poetry






