حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

Poet: سمیر عابد By: سمیر عابد, Quetta

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کےلیےحاضر غلام ہو جائے

میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سےپھر مری دنیا میں شام ہو جائے

تجلیات سےبھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو اُن کی گلی میں قیام ہو جائے

حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے

حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کےفاصلہ یہ چند گام ہو جائے

ملےمجھےبھی زبان بوصیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے

مزا تو جب ہےفرشتےیہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحتِ خیر الانام ہو جائے

صلی اللہ علیہ وسلم

Rate it:
Views: 2204
18 Apr, 2022