درد سے یادوں سے اشکوں سے شناسائی ہے

Poet: مولانا مفتی تقیؔ عثمانی By: مولانا مفتی تقیؔ عثمانی, Quetta

درد سے یادوں سے اشکوں سے شناسائی ہے
کتنا آباد مرا گوشۂ تنہائی ہے

خار تو خار ہیں کچھ گل بھی خفا ہیں مجھ سے
میں نے کانٹوں سے الجھنے کی سزا پائی ہے

میرے پیچھے تو ہے ہر آن یہ خلقت کا ہجوم
اب خدا جانے یہ عزت ہے کہ رسوائی ہے

ان کا دیدار تقیؔ کیسا قیامت ہوگا
جب فقط اُن کے تصور میں یہ رعنائی ہے

Rate it:
Views: 1602
14 Jun, 2022