رباعیات در مدح حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز
Poet: Khalid Roomi By: KHALID ROOMI, Rawalpindi شیخ کل، مرشد الاولیا، قبلہء اہل دل، کعبتہ العشاق، امام جن و الانس ، محبوب سبحانی، قطب ربانی، غوث صمدانی، محی الدین ، ابو محمد
میراں عبدالقادر جیلانی الحسنی و الحسینی قدس سرہ السامی
دلکش ہے، حسیں فضائے عبد القادر حق نغمہ سرا برائے عبدالقادر
بالا ہے مقام اولیا میں ان کا ہے عرش رسا لوائے عبدالقادر
فانی ہے کہاں حباب عبدالقادر؟ آئین خدا کتاب عبدالقادر
توحید کے نغموں سے مزین ہے فضا ہے وجد فزا رباب عبدالقادر
بن پائے کہاں جواب عبدالقادر ہے سب سے جدا شباب عبدالقادر
تا حشر نہ آفتاب ان کا ڈوبے برسے گا سدا سحاب عبدالقادر
شان حق را گواہ عبدالقادر مرد عصیاں پناہ عبدالقادر
روشن ہے چارسو چراغ وحدت نور ذات الٰہ عبدالقادر
تم ہو حق کے سفیر عبدالقادر بے چاروں کے نصیر عبدالقادر
اے کل کے شیخ ! دستگیری کیجو رحمے اے دستگیر عبدالقادر
بے مثل ہے کیا حیات عبدالقادر کس سے ہوں بیاں صفات عبدالقادر
اللہ رے ، کونین ہتھیلی پر ہیں ٹک دیکھئے کائنات عبدالقادر
ظلمت کا مٹا رواج عبدالقادر ! ایقان کا دے زجاج عبدالقادر
باقی نہ رہے دل میں خیال دوئی وہ درس پڑھا پھر آج عبدالقادر
ہے مہر تابندہ عبدالقادر اک نقش پائندہ عبدالقادر
ہوتی ہے حرمت نبی قائم، جب مردے کر دے زندہ عبدالقادر
خلقت میں با کمال عبدالقادر ہیں وحدت جلال عبدالقادر
ہر سو ہے روشنی انھی کے دم سے نور حق کا جمال عبدالقادر
جلوؤں کی بہار شیخ عبدالقادر رحمت کا دیار شیخ عبدالقادر
مسجود ملائکہ انھی کے جد ہیں انساں کا وقار شیخ عبدالقادر
بیجا نہ کرو قیاس عبدالقادر ہے کون ادا شناس عبدالقادر ؟
ہیں چاروں طرف تجلیاں وحدت کی ہے نور خدا لباس عبدالقادر
خلقت کے بہی خواہ ہیں عبدالقادر کونین میں ذی جاہ ہیں عبدالقادر
اللہ نے بخشا ہے انھیں ایسا علم ہر چیز سے آگاہ ہیں عبدالقادر
مخلوق کے سر پہ تاج عبدالقادر خلقت ہے محتاج عبدالقادر
دنیا کی متاع ہیچ اس محفل میں دنیا کا گہر ، زجاج عبدالقادر
اس طرح چلا فسون عبدالقادر خلقت ہے مرہون عبدالقادر
ہے اہل خرد کو خبط دانش لا حق عشاق کو ہے جنون عبدالقادر
ہر آن پھلے یہ باغ عبدالقادر گردش میں رہے ایاغ عبدالقادر
حاسد کا حسد بگاڑے گا کیا اس کا روشن ہے سدا چراغ عبدالقادر
الطاف نشاں گیاہ عبدالقادر سر خم شو بہ عز و جاہ عبدالقادر
در حضرت کردگار او مقبول است کاں ذات خدا گواہ عبدالقادر
تسکین فزا کلاہ عبدالقادر از جنبش نگاہ عبدالقادر
مسرور غنی و شاد باشم اے دوست ! با نسبت خانقاہ عبدالقادر
ہیں مخدوم خلقت عبدالقادر شیخ کل ہیں حضرت عبدالقادر
بھرتا ہے جھولی سائل جس در سے ہیں وہ باب رحمت عبدالقادر
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






