رمضان المبارک
Poet: Naveed Anwar (Roomi) By: Naveed Anwar, Point Hopeرمضان المبارک کا مقدس مہینہ آيا
ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے آيا
بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہو رہی ہیں
ماہ مقدس ميں نیکیوں کی موسلادھار بارشيں ہو رہی ہیں
صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک صوم رکھ ليا
اپنے جسم کے تمام اعضاء کو برائیوں سے روک ليا
روزہ فرض کر دیئا اور اس عمل سے ایمان بڑھ گيا
برائیوں کو ترک کر دیا نیکیوں کی طرف راغب ہو گيا
رب نے اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کر ديا
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تحفہ عطا کر ديا
سابقہ گناہوں کی بخشش رب سے طلب کرنے کا موقع مل گيا
اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس و مطہر کی رحمت اور معافی کا موقع مل گيا
روزہ ہر مسلمان عاقل بالغ اور آزاد پر فرض کر ديا
اس میں مسلمان مرد اور عورت دونوں کو شامل کر ديا
مریض اور مسافر کے لئے دین اسلام نے رعایت بھی رکھ دی
بعد میں روزے جو قضا ہوئے انکی گنتی پوری کرنے کی ہدايت کر دی
اسی مہینے لیلة القدر میں قرآن مجید کا نزول ہوا
رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں ميں نزول ہوا
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر رات ميں عبادت کا موقع ملا
لیلة القدر کی عبادت سے زیادہ اجر و ثواب حاصل کرنے کا موقع ملا
روذہ دار کو جنتی دروازے رَیّان سے داخل ہونے کا ايک م موقع اور ملا گيا
روزہ اور قرآن سے قیامت کہ دن داخل ہونے کی سفارش کا موقع پھر ملا گيا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






