زاد راہ ہے نہ اسباب میرے پاس
فقط ہے دل بے تاب میرے پاس
پیش کروں کیا ، در سرکار میں
کچھ بھی نہیں ، جناب میرے پاس
درد ہجر و فراق میں بہائے ہوئے
اشکوں کے ہیں در نایاب میرے پاس
لے کے آ گیا ہوں ، شاہ کائنات
گناہوں کی تھی جو کتاب میرے پاس
کروں گا کیسے روز محشر سامنا
سوالوں کا نہیں کوئی جواب میرے پاس
چھپاؤں گا کیونکر شرم سے منہ طاہر
نہیں ہے کوئی بھی حجاب میرے پاس