انھیں کے اوصاف کی ہو خوش بو مرے یقیں میں مرے گماں میں
مرے قلم میں مرے سخن میں مرے تخیل مرے بیاں میں
ہے خُلق اکمل ، ہے خَلق اجمل ، وہی ہیں محبوبِ ربِّ اکبر
قرآں کی تفسیر اُن کی سیرت ، کوئی نہ ان سا مکیں مکاں میں
نظیر اُن کی ملے گی کیسے ، نہ اُن سا پیدا ہوا ہے کوئی
مکیں مکاں میں زمیں زماں میں ، نہ اِس جہاں میں نہ اُس جہاں میں
’’یہ چاند سورج ستارے تارے انھیں کے جلووں سے فیض پائے‘‘
انھیں کے تلووں کی روشنی ہے ، شفق میں جاری تو کہکشاں میں
چمن چمن ہے سمن سمن ہے ، نبی کے عرقِ بدن کی نکہت
انھیں کے گیسوے عنبریں کی بسی ہے خوش بو گلِ جناں میں
مٹائی دنیا سے بُت پرستی ، چراغِ وحدت جلا دیا ہے
نہ آیا ہے اور نہ آئے گا اُن سا کوئی ظلمت شکن جہاں میں
بڑھی تھی وحشت جہاں میں لوگو! نہ حُسنِ اَخلاق تھا کہیں بھی
وہ آئے پھیلی یقیں کی خوش بو ، ادب بسا قومِ بد نشاں میں
لباسِ پیوند جسم پر ہے ، شکم پہ اُن کے بندھے ہیں پتھر
وہ سادگی ہے ملے نہ تمثیل اِس جہاں کیا؟ کسی جہاں میں
یہی مُشاہدؔ کی آرزو ہے ، سطورِ مدحت لکھے ہمیشہ
دُرود اُس کی خموشیاں ہوں ، سلام جاری رہے زباں میں