سلام بحضور سیّدناحضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
Poet: Professor Kausar Shah Jahan Puri By: M. Zamiruddin Kausar, Karachiسب سے پہلے ہے یہ لازم حمداللہ کی لکھوں
با ادب پھر قادرِ مطلق سے میں اتنا کہوں
مالکِ کون و مکاں تو نے ہمیں پیدا کیا
اور بناکر شکل انساں مرتبہ ایسا دیا
بن گئے جب امتی ہم سے ترے محبوبﷺ کے
کردیا روشن ہر اک دل مصطفٰےﷺ کے نور سے
دست بستہ پیش کرتے ہیں غلامانِ رسولﷺ
کاش ہوجائے سلام عاجزانہ یہ قبول
کیوں نہ بھیجیں شہسوارِ کربلا پر ہم سلام
کیوں نہ بھیجیں پیکر صبر و رضا پر ہم سلام
کیوں نہ بھیجیں منبعِ جودوسخا پر ہم سلام
کیوں نہ بھیجیں مظہر مہر وفا پر ہم سلام
ہیں ہمارے جب حسین ابن علیؓ جانِ رسولﷺ
کیوں نہ بھیجیں ہم سدا سبطِ نبی ﷺ پر صد سلام
کیوں نہ بھیجیں ہم سدا ابن علیؓ پر صد سلام
کیوں نہ بھیجیں ہم سدا اس فاطمیؓ پر صد سلام
کیوں نہ بھیجیں ہم سدا ایسے جری پر صد سلام
ہیں ہمارے جب حسین ابن علیؓ جانِ رسولﷺ
کیوں نہ بھیجیں کربلا کے تاجداروں کو سلام
کیوں نہ بھیجیں کربلا کے بے سہاروں کو سلام
کیوں نہ بھیجیں کربلا کے ریگزاروں کو سلام
کیوں نہ بھیجیں کربلا کے نثاروں کو سلام
ہیں ہمارے جب حسین ابن علیؓ جانِ رسولﷺ
پیش کرتے ہیں تمھاری ہم صداقت کو سلام
پیش کرتے ہیں تمھاری ہم فضیلت کو سلام
پیش کرتے ہیں تمھاری ہم شجاعت کو سلام
پیش کرتے ہیں تمھاری ہم شہادت کو سلام
ہیں ہمارے جب حسین ابن علیؓ جانِ رسولﷺ
السلام اے مصطفےٰﷺ کے لاڈلے پیارے حسینؓ
السلام اے جانِ حیدرؓ کے پارے حسینؓ
السلام اے فاطمہؓ کی آنکھ کے تارے حسینؓ
السلام اے آگہی کے فکر کے دھارے حسینؓ
دل میں کوثر کے تمھارے غم کا ہے یہ احترام
پیش کرتا تمھیں با چشم نم اپنا سلام
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






