سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے میرے مصطفیﷺ
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
جب تصور میں کبھی ، بیت المقدس آگیا
زہن و دل میں دیر تک بس اک نشہ سا چھا گیا
مسجدِ اقصی ٰ میں جب تھے ، مقتدی سارے نبی
اور امامت کر رہے تھے مرے پیارے مصطفیﷺ
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفیﷺ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
جب صحابہ کے جلو میں آتے ہونگے مصطفی ﷺ
درمیانِ چار یارمؓ ، چاند جیسے مصطفیﷺ
ایسے میں حسانؓ پڑھتے ہونگے نعت مصطفیﷺ
کیسی ہوتی ہوگی محفل جان جس کی مصطفیﷺ
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفی
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
جب قضا کو مرے آقاﷺ نے بنایا تھا، ادا
شمس کو پلٹایا ، جب بہر علی المرتضیؓ
جب اٹھی تھیں انگلیاں شق القمر کے واسطے
کیسا ہوگا وہ سماں جب چاند دو ٹکڑے ہوا
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفیﷺ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
جب بھی ڈالی آسماں کی وسعتوں پر اک نظر
یادَ معراجِ ِ نبیﷺآئی وَ معراج ِ بشر
جب کہا جبریل نے ،سدرہ مرا ختمِ سفر
اور بولے آقاﷺ ، جب مرا ہے آغاز سفر
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفیﷺ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
جب بھی چھیڑا ، زکر ہم نے ان ﷺکے لطفِ عام کا
ہم زباں تھے سب ملائک، ذکر تھا اسﷺ نام کا
فائدہ ہی فائدہ ، اللہ نبیﷺ کے نام کا
ساری محفل پہ ہے چھایا ، ایک ان دیکھا نشہ
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفیﷺ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
ذکر سے آقا ﷺکے مہکے یہ زمیں عرش و فلک
زمزمہ خوان ہیں تمامی ، جن و انسان و مَلَک
خواہشوں کی سرزمیں پر ، ہے تمنا کا فلک
کاش ہم بھی دیکھ پاتے مدنی آقا ﷺکی جھلک
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفیﷺ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
اے دل بے تاب انﷺ کو ، اپنا درد و غم سنا
وہﷺ صدا سنتے ہیں سب کی ہر گھڑی صبح و مسا
نا خدائے ہر زمانہ ﷺ ، شافع روز جزاﷺ
مانگتا ہے دید مفتی ، بہرِ دیدِ مصطفیﷺ
سوچتا ہوں کیسے لگتے ہونگے مرے مصطفیﷺ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
مُحَمد نَبِینَا ، بِنُورُ ھَدِینَا ، مِن مَکہ حَبِیبی نُورُ سَطع المَدِینہ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






