Poetries by سہیل احمد
اہل_ وطن سے التجا فرض یہ بھی ادا کرو صاحب
دیس سے اب وفا کرو صاحب
موت سستی ہے،زندگی مہنگی
کچھ تو خوف_ خدا کرو صاحب
روز محشرحساب دینا ہے
سوچ کر فیصلہ کرو صاحب
الفتیں بانٹنے سے بڑھتی ہیں
پیار سے ابتدا کرو صاحب
اے مسیحاؤ ، ہو چکی باتیں
درد کی اب دوا کرو صاحب
خوف_ دنیا روا نہیں ہے سہیل
صرف رب سے ڈرا کرو صاحب Suhail Ahmad
دیس سے اب وفا کرو صاحب
موت سستی ہے،زندگی مہنگی
کچھ تو خوف_ خدا کرو صاحب
روز محشرحساب دینا ہے
سوچ کر فیصلہ کرو صاحب
الفتیں بانٹنے سے بڑھتی ہیں
پیار سے ابتدا کرو صاحب
اے مسیحاؤ ، ہو چکی باتیں
درد کی اب دوا کرو صاحب
خوف_ دنیا روا نہیں ہے سہیل
صرف رب سے ڈرا کرو صاحب Suhail Ahmad
بیٹی بڑا ہے مان بیٹے پر
وفا بیٹی سکھاتی ہے
یہ قدرت کا وه تحفہ ہے
جو رحمت ساتھ لاتی ہے
میری بیٹی میری دنیا
میری دنیا میری جنت
میں جب مایوس ہوتا ہوں
بہت بےچین رہتا ہوں
مجھے جینا سکھاتی ہے
یہ جب بھی مسکراتی ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
خدا بھی مسکراتا ہے
اسے جب پیار کرتا ہوں
گلے سے جب لگاتا ہوں
خدا کو ہر گھڑی پھر میں
بس اپنے ساتھ پاتا ہوں
یہ مانا بیٹا نعمت ہے
مگر بیٹی بھی رحمت ہے
مجھے دنیا سے کہنا ہے
کہ جس پر مہرباں رب ہو
اسے دیتا ہے یہ تحفہ
علامت اپنی رحمت کی Suhail Ahmad
وفا بیٹی سکھاتی ہے
یہ قدرت کا وه تحفہ ہے
جو رحمت ساتھ لاتی ہے
میری بیٹی میری دنیا
میری دنیا میری جنت
میں جب مایوس ہوتا ہوں
بہت بےچین رہتا ہوں
مجھے جینا سکھاتی ہے
یہ جب بھی مسکراتی ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
خدا بھی مسکراتا ہے
اسے جب پیار کرتا ہوں
گلے سے جب لگاتا ہوں
خدا کو ہر گھڑی پھر میں
بس اپنے ساتھ پاتا ہوں
یہ مانا بیٹا نعمت ہے
مگر بیٹی بھی رحمت ہے
مجھے دنیا سے کہنا ہے
کہ جس پر مہرباں رب ہو
اسے دیتا ہے یہ تحفہ
علامت اپنی رحمت کی Suhail Ahmad
انا پرست لوگ انا پرست لوگ ہیں
عجیب سے عجیب تر
کوئی کہاں اٹک گیا
کوئی کہاں اٹک گیا
لگا دیا جنون کو
مٹا دیا سکون کو
کوئی کہیں بھٹک گیا
کوئی کہیں بھٹک گیا
انا پرست لوگ تو
نہ جیت ہیں نہ ہار ہیں
انا پرست لوگ تو
انا کا بس حصار ہیں
انا پرستی چھوڑئیے
حصار یہ بھی توڑییے
سکوں کی گر تلاش ہے
خدا سے ربط جوڑئیے
بشر کی کیا مجال ہے؟
وه ذرے کی مثال ہے
یہ حق تو صرف اُ س کا ہے
وه صاحب_ کمال ہے Suhail Ahmad
عجیب سے عجیب تر
کوئی کہاں اٹک گیا
کوئی کہاں اٹک گیا
لگا دیا جنون کو
مٹا دیا سکون کو
کوئی کہیں بھٹک گیا
کوئی کہیں بھٹک گیا
انا پرست لوگ تو
نہ جیت ہیں نہ ہار ہیں
انا پرست لوگ تو
انا کا بس حصار ہیں
انا پرستی چھوڑئیے
حصار یہ بھی توڑییے
سکوں کی گر تلاش ہے
خدا سے ربط جوڑئیے
بشر کی کیا مجال ہے؟
وه ذرے کی مثال ہے
یہ حق تو صرف اُ س کا ہے
وه صاحب_ کمال ہے Suhail Ahmad
دعا سال نو ہو دعاؤں میں اپنی اثر اے خدا
رحم ہو جاۓ ترا اگر اے خدا
سارے اہل وطن شاد و آباد ہوں
اور لگے نہ انہیں پھر نظر اے خدا
کوئی محکوم ہو اور نہ محتاج ہو
زندگی چین سے ہو بسر اے خدا
اس چمن میں بہاروں کا ہی راج ہو
اور خزاں کا نہ ہو پھر گزر اے خدا
منزلوں کی طرف جو بھی ہیں گامزن
تلخ ان کا نہ ہو یہ سفر اے خدا
سال نو میں نہ ہو کوئی بھی حادثہ
عافیت عام ہو اس قدر اے خدا
آمین Suhail Ahmad
رحم ہو جاۓ ترا اگر اے خدا
سارے اہل وطن شاد و آباد ہوں
اور لگے نہ انہیں پھر نظر اے خدا
کوئی محکوم ہو اور نہ محتاج ہو
زندگی چین سے ہو بسر اے خدا
اس چمن میں بہاروں کا ہی راج ہو
اور خزاں کا نہ ہو پھر گزر اے خدا
منزلوں کی طرف جو بھی ہیں گامزن
تلخ ان کا نہ ہو یہ سفر اے خدا
سال نو میں نہ ہو کوئی بھی حادثہ
عافیت عام ہو اس قدر اے خدا
آمین Suhail Ahmad
اندر سے اٹھا ہے جو طوفاں اندر سے اٹھا ہے جو طوفاں
کیا روک سکے گا اب زنداں؟
واریں گے ہم تن،من , جاں
اپنا فرض ہے اور ایماں
پاکستان پہ جاں قرباں
خود لکھیں گے تقدیر وطن
ہاں ایک نئی تحریر وطن
ہو جس سے توقیر وطن
اورجینا مرنا ہو آساں
پاکستان پہ جاں قرباں
آؤ ملکر ساتھ چلیں
وقت کی ہم آواز سنیں
ظلم سے ہم پیکار کریں
اور اس کا مٹا دیں نام و نشاں
پاکستان پہ جاں قرباں
امید کرن پھر جاگی ہے
اور خوف سے ظلمت بھاگی ہے
ہر بچہ بچہ باغی ہے
ہاں بچ نا سکے گا اب شیطاں
پاکستان پہ جاں قرباں Suhail Ahmad
کیا روک سکے گا اب زنداں؟
واریں گے ہم تن،من , جاں
اپنا فرض ہے اور ایماں
پاکستان پہ جاں قرباں
خود لکھیں گے تقدیر وطن
ہاں ایک نئی تحریر وطن
ہو جس سے توقیر وطن
اورجینا مرنا ہو آساں
پاکستان پہ جاں قرباں
آؤ ملکر ساتھ چلیں
وقت کی ہم آواز سنیں
ظلم سے ہم پیکار کریں
اور اس کا مٹا دیں نام و نشاں
پاکستان پہ جاں قرباں
امید کرن پھر جاگی ہے
اور خوف سے ظلمت بھاگی ہے
ہر بچہ بچہ باغی ہے
ہاں بچ نا سکے گا اب شیطاں
پاکستان پہ جاں قرباں Suhail Ahmad
" دھرتی کی پکار "یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟ دھرتی کی پکار
دشمن دیس کی دھرتی کے
ہر روز قیامت ڈھاتے ہیں
پر سوۓ رہتے ہیں پل پل
یہ مورکھ پریم کی بستی کے
حق اپنا کب مانگیں گے ؟
کب گہری نیند سے جاگیں گے ؟
کس سوچ میں گُم سم بیٹھے ہیں؟
یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟
تڑپ تڑپ کر جینا ہے
چھلنی چھلنی سینہ ہے
زہر غموں کا پینا ہے
کلی کلی مرجھائی ہے
انسان پہ تنگ خدائی ہے
اب بات زباں پر آئی ہے
کیوں ظلم برابر سہتے ہیں؟
یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟
مجھے دنیا میں بدنام کیا
اور جب چاہا آرام کیا
یہ کام بھی کوئی کام کیا؟
ہر جانے والے کو گالی
اور آتے کو پرنام کیا
سب ہوتا دیکھتے ہیں لیکن
بس موج رواں میں بہتے ہیں
یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟ Suhail Ahmad
دشمن دیس کی دھرتی کے
ہر روز قیامت ڈھاتے ہیں
پر سوۓ رہتے ہیں پل پل
یہ مورکھ پریم کی بستی کے
حق اپنا کب مانگیں گے ؟
کب گہری نیند سے جاگیں گے ؟
کس سوچ میں گُم سم بیٹھے ہیں؟
یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟
تڑپ تڑپ کر جینا ہے
چھلنی چھلنی سینہ ہے
زہر غموں کا پینا ہے
کلی کلی مرجھائی ہے
انسان پہ تنگ خدائی ہے
اب بات زباں پر آئی ہے
کیوں ظلم برابر سہتے ہیں؟
یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟
مجھے دنیا میں بدنام کیا
اور جب چاہا آرام کیا
یہ کام بھی کوئی کام کیا؟
ہر جانے والے کو گالی
اور آتے کو پرنام کیا
سب ہوتا دیکھتے ہیں لیکن
بس موج رواں میں بہتے ہیں
یہ کیسے ماں کے بیٹے ہیں؟ Suhail Ahmad
ہم موت سے ڈرنے والے نہیں ہم اہل قلم ہیں اہل وفا
ہم موت سے ڈرنے والے نہیں
یہ عہد کیا ہے مٹی سے
امید کے پھول کھلائیں گے
تُم لاؤ لشکر لے آؤ
ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں
مت لوٹو دیس خزانے کو
اور چھوڑو ظلم کمانے کو
ہم موج رواں ہیں دریا کی
ہم بڑھے تو رکنے والے نہیں
یہ دھرتی امن کی دھرتی ہے
ہر اہل وطن کو یاد رہے
ہم ایک خدا کو مانتے ہیں
ٹکڑوں میں بٹنے والے نہیں
ہم امن پجاری ہیں لیکن
یہ امن پسندی خوف نہیں
تُم ہم سے کرو گے جنگ اگر
ہم جنگ سے ڈرنے والے نہیں
Suhail Ahmad
ہم موت سے ڈرنے والے نہیں
یہ عہد کیا ہے مٹی سے
امید کے پھول کھلائیں گے
تُم لاؤ لشکر لے آؤ
ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں
مت لوٹو دیس خزانے کو
اور چھوڑو ظلم کمانے کو
ہم موج رواں ہیں دریا کی
ہم بڑھے تو رکنے والے نہیں
یہ دھرتی امن کی دھرتی ہے
ہر اہل وطن کو یاد رہے
ہم ایک خدا کو مانتے ہیں
ٹکڑوں میں بٹنے والے نہیں
ہم امن پجاری ہیں لیکن
یہ امن پسندی خوف نہیں
تُم ہم سے کرو گے جنگ اگر
ہم جنگ سے ڈرنے والے نہیں
Suhail Ahmad
وفا سے رابطہ رکھنا میں یہ تسلیم کرتا ہوں
مجھے الفت کہ رستے پر
وفا کی حق پرستی پر
بڑا ہی ناز ہے جاناں
میں جتنے خواب بنتا ہوں
میں جتنے لفظ لکھتا ہوں
میری تحریر میں شامل
میرے جذبوں کی عکاسی
میری خوداری یہ ہر پل
مجھے یوں درس دیتی ہے
اگر تُم ہار بھی جاؤ
تو اتنا حوصلہ رکھنا
وفا سے رابطہ رکھنا
محبت کے سفر میں تو
وفا ہی شرط اول ہے
وفا ہی حرف آخر ہے
Suhail Ahmad
مجھے الفت کہ رستے پر
وفا کی حق پرستی پر
بڑا ہی ناز ہے جاناں
میں جتنے خواب بنتا ہوں
میں جتنے لفظ لکھتا ہوں
میری تحریر میں شامل
میرے جذبوں کی عکاسی
میری خوداری یہ ہر پل
مجھے یوں درس دیتی ہے
اگر تُم ہار بھی جاؤ
تو اتنا حوصلہ رکھنا
وفا سے رابطہ رکھنا
محبت کے سفر میں تو
وفا ہی شرط اول ہے
وفا ہی حرف آخر ہے
Suhail Ahmad
ہم اہل قلم ہیں اہل وفا ہم اہل قلم ہیں اہل وفا
ہم موت سے ڈرنے والے نہیں
یہ عہد کی ہے مٹی سے
امید کے پھول کھلائیں گے
تُم لاؤ لشکر لے آؤ
ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں
مت لوٹو دیس خزانے کو
اور چھوڑو ظلم کمانے کو
ہم موج رواں ہیں دریا کی
ہم بڑھے تو رکنے والے نہیں
یہ دھرتی امن کی دھرتی ہے
ہر اہل وطن کو یاد رہے
ہم ایک خدا کو مانتے ہیں
ٹکڑوں میں بٹنے والے نہیں
ہم امن پجاری ہیں لیکن
یہ امن پسندی خوف نہیں
تُم ہم سے کرو گے جنگ اگر
ہم جنگ سے ڈرنے والے نہیں
Suhail Ahmad
ہم موت سے ڈرنے والے نہیں
یہ عہد کی ہے مٹی سے
امید کے پھول کھلائیں گے
تُم لاؤ لشکر لے آؤ
ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں
مت لوٹو دیس خزانے کو
اور چھوڑو ظلم کمانے کو
ہم موج رواں ہیں دریا کی
ہم بڑھے تو رکنے والے نہیں
یہ دھرتی امن کی دھرتی ہے
ہر اہل وطن کو یاد رہے
ہم ایک خدا کو مانتے ہیں
ٹکڑوں میں بٹنے والے نہیں
ہم امن پجاری ہیں لیکن
یہ امن پسندی خوف نہیں
تُم ہم سے کرو گے جنگ اگر
ہم جنگ سے ڈرنے والے نہیں
Suhail Ahmad
حمد وه تو رحمان ہے آزما کر تو دیکھ
اُس کے دربار میں سرجھکا کر تو دیکھ
ہوں گے دونوں جہاں ترے قدموں میں پھر
اُس کی چاہت میں سب کچھ لٹا کر تو دیکھ
ابد تک رہے گا وه ناصر ترا
اُس کو اپنا کسی دن بنا کر تو دیکھ
ہے سراپا محبت وه ذات خدا
اُس کی لو اپنے دل میں جگا کر تو دیکھ
کیوں بھٹکتا ہے تُو در بہ در اے سہیل
سامنے اُس کے جھولی پھیلا کر تو دیکھ
Suhail Ahmad
اُس کے دربار میں سرجھکا کر تو دیکھ
ہوں گے دونوں جہاں ترے قدموں میں پھر
اُس کی چاہت میں سب کچھ لٹا کر تو دیکھ
ابد تک رہے گا وه ناصر ترا
اُس کو اپنا کسی دن بنا کر تو دیکھ
ہے سراپا محبت وه ذات خدا
اُس کی لو اپنے دل میں جگا کر تو دیکھ
کیوں بھٹکتا ہے تُو در بہ در اے سہیل
سامنے اُس کے جھولی پھیلا کر تو دیکھ
Suhail Ahmad
ہم ایک ہیں دنیا کو دکھانے کی گھڑی ہے ہم ایک ہیں دنیا کو دکھانے کی گھڑی ہے
کچھ قرض محبت کے چکانے کی گھڑی ہے
پہچان ملی ہم کو تو بس نام سے ترے
اس نام پہ اب سر کو کٹانے کی گھڑی ہے
دشمن نے ہمیں جیسی بھی سازش میں ہے گھیرا
اب دیس کہ دشمن کو مٹانے کی گھڑی ہے
تجھ سے تو مری روح کا رشتہ ہے مرے دیس
اب تجھ پہ دل و جاں کو لٹانے کی گھڑی ہے
الله کا ہے حکم کہ جاں تجھ پہ فدا ہو
الله کا فرمان نبھانے کی گھڑی ہے
Suhail Ahmad
کچھ قرض محبت کے چکانے کی گھڑی ہے
پہچان ملی ہم کو تو بس نام سے ترے
اس نام پہ اب سر کو کٹانے کی گھڑی ہے
دشمن نے ہمیں جیسی بھی سازش میں ہے گھیرا
اب دیس کہ دشمن کو مٹانے کی گھڑی ہے
تجھ سے تو مری روح کا رشتہ ہے مرے دیس
اب تجھ پہ دل و جاں کو لٹانے کی گھڑی ہے
الله کا ہے حکم کہ جاں تجھ پہ فدا ہو
الله کا فرمان نبھانے کی گھڑی ہے
Suhail Ahmad
خواب آنکھوں میں بساۓ کیوں تھے؟ خواب آنکھوں میں بساۓ کیوں تھے؟
پیار کے دیپ جلاۓ کیوں تھے ؟
تُم کو جانا تھا کسی اور نگر
من کے مندر میں سماۓ کیوں تھے؟
موسم عشق کی سوغات ہے یہ
ہجر کے پیڑ لگاۓ کیوں تھے؟
مجھ سے الفت کا ارادہ ہی نہ تھا
گیت چاہت کے سناۓ کیوں تھے؟
آج جو اتنے پریشاں ہو سہیل
ربط یک طرفہ بڑھاۓ کیوں تھے؟ Suhail Ahmad
پیار کے دیپ جلاۓ کیوں تھے ؟
تُم کو جانا تھا کسی اور نگر
من کے مندر میں سماۓ کیوں تھے؟
موسم عشق کی سوغات ہے یہ
ہجر کے پیڑ لگاۓ کیوں تھے؟
مجھ سے الفت کا ارادہ ہی نہ تھا
گیت چاہت کے سناۓ کیوں تھے؟
آج جو اتنے پریشاں ہو سہیل
ربط یک طرفہ بڑھاۓ کیوں تھے؟ Suhail Ahmad
پاکستان پر نیٹو کے حملے کے پس منظر میں لکھی گئی ایک غزل اب کوئی غفلت نا اب کوئی ندامت چاہیے
سرحدیں محفوظ ہوں ایسی حقیقت چاہیے
اتنے دن میں چپ رہا سہتا رہا سارے ستم
آج مجھ کو لب کشائی کی اجازت چاہیے
ڈال کر آنکھوں میں آنکھیں بات ان سے کر سکے
دوستو اس بار کچھ ایسی قیادت چاہیے
دوست بن کر دشمنی کا وار جس نے ہے کیا
اس منافق پر یہاں ڈھانی قیامت چاہیے
روز و شب کرتا رہے جو دیس میں خرمستیاں
ایسے سلطاں سے ہمیں کرنی بغاوت چاہیے
جس نے اپنی جان کو قربان دھرتی پر کیا
اس محافظ سے ہمیں کرنی محبت چاہیے
آے دن پامال کرتے ہیں ہماری حرمتیں
دوستی ان سے نہیں ہم کو عداوت چاہیے
جس نے سرحد پر مری شب خون مارا ہے سہیل
اب نا وه مجرم کہیں مجھ کو سلامت چاہیے Suhail Ahmad
سرحدیں محفوظ ہوں ایسی حقیقت چاہیے
اتنے دن میں چپ رہا سہتا رہا سارے ستم
آج مجھ کو لب کشائی کی اجازت چاہیے
ڈال کر آنکھوں میں آنکھیں بات ان سے کر سکے
دوستو اس بار کچھ ایسی قیادت چاہیے
دوست بن کر دشمنی کا وار جس نے ہے کیا
اس منافق پر یہاں ڈھانی قیامت چاہیے
روز و شب کرتا رہے جو دیس میں خرمستیاں
ایسے سلطاں سے ہمیں کرنی بغاوت چاہیے
جس نے اپنی جان کو قربان دھرتی پر کیا
اس محافظ سے ہمیں کرنی محبت چاہیے
آے دن پامال کرتے ہیں ہماری حرمتیں
دوستی ان سے نہیں ہم کو عداوت چاہیے
جس نے سرحد پر مری شب خون مارا ہے سہیل
اب نا وه مجرم کہیں مجھ کو سلامت چاہیے Suhail Ahmad
خوف کیوں آنکھ میں آنسو ہے تری ، دل میں ترے خوف؟
جب موت حقیقت ہے تو پھر کیوں ہے تجھے خوف؟
دشمن تری دہلیز پہ آ بیٹھا ہے کب سے
اک تو ہے کے دھمکاتے ہے ہر لحظہ جسے خوف
یہ آگ ترے گھر میں لگی ہے مرے بھی
اور اسکو بجھانے میں بھی آتا ہے تجھے خوف؟
کیوں بھول گیا نعرہ تکبیر کی طاقت؟
کیوں آج فقط دل میں ہے باطل کا ترے خوف؟
ہے وقت کڑا جاگ ذرا مرد مسلماں
مومن کی نہیں شان کے کافر کا کرے خوف سہیل احمد
جب موت حقیقت ہے تو پھر کیوں ہے تجھے خوف؟
دشمن تری دہلیز پہ آ بیٹھا ہے کب سے
اک تو ہے کے دھمکاتے ہے ہر لحظہ جسے خوف
یہ آگ ترے گھر میں لگی ہے مرے بھی
اور اسکو بجھانے میں بھی آتا ہے تجھے خوف؟
کیوں بھول گیا نعرہ تکبیر کی طاقت؟
کیوں آج فقط دل میں ہے باطل کا ترے خوف؟
ہے وقت کڑا جاگ ذرا مرد مسلماں
مومن کی نہیں شان کے کافر کا کرے خوف سہیل احمد