شبیر پہ ہے صبرو شجاعت تمام شد
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonشبیر پہ ہے صبرو شجاعت تمام شد
آلِ عبا پہ جیسے طہارت تمام شد
لکھا روایتوں میں ہے یہ متفق علیہ
ہے مجتبی ٰ کے بعد خلافت تمام شد
ایسا فصیح خطبہ ء آخر حسین کا
جیسے ہوئی ہو جگ میں بلاغت تمام شد
راہب بھی بھیک مانگنے در انکے آگیا
یہ سن کے آپ پر ہے سخاوت تمام شد
آلِ نبی کو دیکھ کے کربل نے یہ کہا
اللہ آج یاں ہے نجابت تمام شد
سجاد نے یہ لاشہ ء شبیر پر کہا
نادان سمجھے اب ہے امامت تمام شد
دیکھے سجودِ عابدیں دیکھی عبادتیں
بولے ملک کہ اب ہے عبادت تمام شد
سجدہ دیا جو خون میں لت پت حسین نے
کًر و بیاں پکارے نیابت تمام شد
قرآن سنکے نیزے پہ کہنے لگے ملک
مولا حسین پر ہے تلاوت تمام شد
تھاما جو کربلا میں نبی نے حسین کو
بولے حسین تجھ پہ شہادت تمام شد
اقصیٰ میں انبیاء نے بصد ناز یہ کہا
سردارِ انبیاء پہ رسالت تمام شد
خود کہہ رہی ہے آیتے تطہیر برملا
ان پانچ پر ہوئی ہے طہارت تمام شد
لو آج پنج تن چلے بہرِ مباہلہ
کرنے کو اہلِ نصر پہ حجت تمام شد
خُم میں علی کو تاجِ امامت ملا حضور
مہدی پہ کی گئی ہے امامت تمام شد
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






