عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں

Poet: جونؔ ایلیا By: سارہ نوید, Islamabad

عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں
کہ نہ اس شخص کو بھولیں نہ اسے یاد رکھیں

عہد اس کوچۂ دل سے ہے سو اس کوچے میں
ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں

کیا کہیں کتنے ہی نکتے ہیں جو برتے نہ گئے
خوش بدن عشق کریں اور ہمیں استاد رکھیں

بے ستوں اک نواحی میں ہے شہر دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فرہاد رکھیں

آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے
اک قفس لائیں کہیں سے کوئی صیاد رکھیں

ہم کو انفاس کی اپنے ہے عمارت کرنی
اس عمارت کی لبوں پر ترے بنیاد رکھیں

Rate it:
Views: 4156
22 Jan, 2022