عرضِ گدا بحضور شافعِ روزِ جزا علیہ التحیۃ والثنا
Poet: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonآپ یٰسٓ ، آپ طہٰ ، آپ شاہِ انس وجاں
نورِ یزداں، جانِ ایماں، چارہ سازِ بیکساں
آپ کی مدحت میں خلّاقِ جہاں رطبُ اللّساں
کس طرح سے ہو بیاں پھر ہم سے آقا عِزّو شاں
آپ نا تھے کچھ بھی نا تھا ، آپ ہوئے تو سب ہوا
آپ ہی جانِ جہاں اور آپ وجہِ کُن فکاں
آپ ہیں محبوبِ اکبر ، ربِّ اکبر کے حضور
اس طرح ہیں آپ مالک کل جہاں کے بے گماں
سب بری عادات مجھ سے دُور فرمادیجیے
دل بنے صدق و صفا ، عدل و مروّت کا مکاں
زندگی بھرگُم رہوں میں آپ کے اَذکار میں
کاش ہو وقتِ نزع بھی نعت ہی وِردِ زباں
آپ ہی کی یاد میں یہ آنکھ میری تر رہے
دل میں میرے اپنا درد و غم شہا کیجے رواں
جارہے ہیں سوئے طیبہ اہلِ قسمت شوق سے
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یاشفیعِ عاصیاں
جارہے ہیں جانے والے وجد میں طیبہ نگر
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
جارہے ہیں سوئے طیبہ میرے والد ، والدہ
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
نور برساتی وہ گلیاں دیکھ کر تسکیں ملے
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
سبز گنبد دیکھ کر پاوں سکونِ دائمی
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
’’ فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے ‘‘
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
غوث اعظم ، شاہِ برکت ، سیّد حمزہ کے طفیل
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
واسطہ احمد رضا کا ، صدقۂ حامد رضا
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
مفتیِ اعظم کا صدقہ ، صدقۂ اختر رضا
مجھ کو بھی اِذنِ سفر ہو یا شفیعِ عاصیاں
ہم غلامانِ رضا و عشقی ، عینی نوری کو
حاضری کی ہو اجازت اب تو اے شاہِ زماں
سبز گنبد دیکھ کر آجاے پیغامِ اجل
بہرِ تربت دیں مدینے کی زمیں فخرِ جناں
حاضری کی ہو اجازت بہرِ سلمان و اویس
سب کو ہی دکھلا دیں آقا وہ زمیں فخرِجناں
ایک جُرعہ جامِ اُلفت سے رضا کے صدقے میں
ہو مُشاہدؔ کو عطا اے جانِ رحمت جانِ جاں
(مشفق ومہربان والدین کے سفرِ زیارتِ روضۃ النبی و حجِ بیت اللہ شریف کے باسعادت موقع پر)
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






