عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

Poet: پروینؔ شاکر By: سہرش, Karachi

عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سےوہ شخص گزرتابھی نہیں
اب کس امید پہ دروازےسےجھانکے کوئی

کوئی آہٹ،کوئی آواز،کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئےکوئی

Rate it:
Views: 227
16 Aug, 2022
Related Tags on Parveen Shakir Poetry
Load More Tags
More Parveen Shakir Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets