فبای الا ربکما تکذبان
Poet: Shabbir By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang city(punjab-pakistan)فبای الا ربکما تکذبان
جس خالق نے ہم کو بخشے نعمتوں کے گلدان
پردہ خاک سے باہر آئے کتنے عظیم انسان
اس کا شکر ہے واجب ہم پر ہر لمحہ ہر آن
قلب و نظر میں اس کی تجلی سمجھے کل جہان
فبای الا ربکما تکذبان
خالق اکبر سلجھائے گا زیست کا یہ بحران
مت کر اے غافل تو اس کی نعمتوں کا کفران
بے نیاز ہے رازق جگ کا اس پر رہے دھیان
جاں لیوا صدمات میں ہے زیست کا نگہبا ن
فبای الا ربکما تکذبان
محشر کے دن اس کے کرم سے ہوگی ہر مشکل آسان
اس کی بخشش دیکھ کے آئے گی سب کی جان میں جان
عاصیوں کو ہے اس کا سہا را بخشش کا سب سامان
پڑھو درود نبی سوہنے پر یوں حاصل ہو وجدان
فبای الا ربکما تکذبان
یہ دنیا ہے ایک سرائے ہم سب ہیں مہمان
سانس کی ڈوری کب ٹوٹے اس نہیں گماں
دو گز زمیں اور کفن کا ٹکڑا ملے گا یہ سب دان
سمجھ لے اپنی ساری بپتا اے غافل انجان
فبای الا ربکما تکذبان
خالق اکبر تیرے دم سے پورے ہوں ارمان
تیرے کرم سے مفلس بھی بن جاتے ہیں دھنوان
رزق کے دروازے کھولے ہیں تو نے بے پایان
کیسے بیاں ہو حمد تیری اور لا محدود احسان
فبای الا ربکما تکذبان
تیرے قہر و غضب کے آقا سخت بڑے فرمان
جتنے ہیں مغضوب تیرے ہیں عبرت کا سامان
سیل زماں میں غرق ہوئے شداد اور ہامان
آخر رزق خاک ہوئے دارا اور ہلاکو خان
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں







