قصیدہءشیخ
Poet: NADIA TARIQ By: NADIA TARIQ, LAHOREقبلہ محترم پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین وارث قادری قلندری مدظلہ العالی
جب دل میں سما جائے، محبت شیخ وارث کی
تو جاری کیوں نہ ہولب پہ، مدحت شیخ وارث کی
سید ذات ہے ان کی،قلندر ہین طریقت میں
خدایا کس قدر عالی ہے، نسبت شیخ وارث کی
جو دیکھے ان کے چہرے کو،تہپھر ان کا ہی ہو جائے
ہے کتنی پیاری سورت اور، سیرت شیخ وارث کی
نظر آتا ہے جلوہء حق، رخِ پر نور مین ان کے
حجِ اکبر سے بھی افضل ، زیارت شیخ وارث کی
وجد ہو جاتا ہے طاری پھر اس پر کیف منظر میں
فرشتے جھومتے ہیںسن کے، قرات شیخ وارث کی
مسیحا ہو تو ایسا ہو، جو باطن کو شفا بھی دے
ہر اِک قریہ میں پھیلی ہے، یہ شہرت شیخ وارث کی
اسے گمراہیوں کا پھر، بھلا کھٹکا ہوئے کیونکر
میسر جس کو ہو جائے ، گر قربت شیخ وارث کی
مے و مینا میں جو گم تھے،انھیں مومن بنا ڈالا
ہیں اکمل آپ اور کامل، ولایت شیخ وارث کی
جو طالب حق کے ہوتے ہیں، انھیں پیچان لیتے ہیں
زمانے پر نہیں طاہر، حقیقت شیخ وارث کی
نگاہ۔ عشق میں ہر سو، وہی جلوہ نظر آئے
درِ باطن میں جاری ہے، کرامت شیخ وارث کی
زمانہ اب کہے گا کیا، نہیں اس بات کی پرواہ
دیوانی ہوں میں منگتی ہوں، ہاں حضرت شیخ وارث کی
سنا ہے شاہ خوش ہوںتو، خزانے بخش دیتے ہیں
مجھے بھی کاش حاصل ہو، عنایت شیخ وارث کی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






