لا الہ الا ا للہ
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, jhang city(punjab-pakistan)لا الہ الا ا للہ
ورد زباں ہے یہی کلام لا الہ الا اللہ
منزل ہو جائے دو گام لا الہ الا اللہ
آؤ کریں عصیاں سے کنارہ
عمر کا سورج ہے لب بام لا الہ الا اللہ
سچا رازق ہے سب خلقت کا
نعمتیں دے بے درہم و دام لا الہ الا اللہ
ہر مشکل میں رب کو پکارو
سہل بنادیتا ہے کام لا الہ الا اللہ
باد سموم کے طوفاں میں بھی
گرتوں کولیتا ہے تھام لا الہ الا اللہ
کام آئے جو دکھیاروں کے
میں اس کا بن مول غلام لا الہ الا اللہ
سیل زماں میں فرعونوں کی
بہہ جائے گی دھوم اور دھام لا الہ الا اللہ
وہ سچا خالق ہے ابد تک
کہہ گئے ہم سے نوح اور سام لا الہ الا اللہ
ملکوں ملکوں ڈھونڈتے کیوں ہو
دل میں بسا ہے وہ گلفام لا الہ الا اللہ
دل میں بسیں اور پر سمجھ نہ آئیں
اس کی قدر ت کے سو نام لا الہ الا اللہ
حق آئے گا مٹے گا باطل
کفر کا قصہ ہوگا تمام لا الہ الا اللہ
حرم پہ دھاوا بولنے والے
لوٹیں گے بے نیل مرام لا الہ الا اللہ
سچے رب کی تسبیح ہر جا
بت کی قسمت میں دشنام لا الہ الا اللہ
ہم پر واجب شکر تیرا ہے
کتنے کیے ہم پر انعام لا الہ الا اللہ
تیری عنایت بے پایاں ہے
قسمت ہے یہ اکرام لا الہ الا اللہ
کر تا ہے اولاد کو قرباں
ہو تا جس کو الہام لا الہ الا اللہ
نار سے بھی وہ بچ جاتا ہے
جس پر ہو تیرا انعام لا الہ الا اللہ
ٹھہر گیا لاہوتی طائر
سدرہ پر جب ملا پیام لا الہ الا اللہ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






