لطف زندگی
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahجوتیری یادمیں محفل سجایا نہیں کرتے میلادکی بزم میں کبھی بھی آیا نہیں کرتے
تیری الفت میں جولولگایا نہیں کرتے حقیقت میں وہ لطف زندگی پایانہیں کرتے
سجویادمصطفی سے دل کوبہلایانہیں کرتے
کرتے ہیں صبروہ شورمچایانہیں کرتے چوٹ لگے انہیں کسی کوبتلایا نہیں کرتے
دکھڑاسنانے کسی کے پاس جایا نہیں کرتے زباں پرشکوہ ء رنج والم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیواغم سے گھبرایانہیں کرتے
اس درکے سواکہاں ملتاہے بے مانگے دکھاؤ ایسی جگہ ہمیں جہاں ملتاہے بے مانگے
چلوچلیں دیارمصطفی وہاں ملتاہے بے مانگے یہ دربارمحمدہے یہاں ملتاہے بے مانگے
ارے ناداںیہاں دامن کوپھیلایا نہیں کرتے
جھکتے ہیں سرشاہوں کے اسی چوکھٹ پر بن جاتی ہے ہرایک کی بگڑی چوکھٹ پر
بڑی چاہتوں سے پہنچاہے ابھی چوکھٹ پر ارے اوناسمجھ قربان ہوجا ان کی چوکھٹ پر
یہ لمحے زندگی میں باربارآیا نہیں کرتے
گزریں ریاض الجنۃ میں ان لمحوں کاکیا کہنا ملتے ہیں دررسول سے ان ٹکڑوں کا کیا کہنا
بٹ رہی ہے جوخیرات وسعتوں کا کیاکہنا یہ درباررسالت ہے یہاں اپنوں کا کیاکہنا
یہاں سے ہاتھ خالی غیربھی جایانہیں کرتے
لوٹاتے نہیں خالی علی اوربتول ایسے ہیں محافظ دین کے اہلبیت رسول ایسے ہیں
نہیں رکھتے دل میں کوئی ملول ایسے ہیں محمدمصطفی کے باغ کے سب پھول ایسے ہیں
جوبن پانی کے تررہتے ہیں مرجھایانہیں کرتے
کچھ بھی نہیں بگاڑسکتاان کا کوئی حاسد رشک کرتے ہیں ان کی قمست پرسب زاہد
دھنی ہیں مقدرکے سکندرصدیق خداشاہد جوان کے دامن رحمت سے وابستہ ہیں اے حامد
کسی کے سامنے وہ ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے
السلام علیکم یہ نعتیہ کلام پہلے بھی آن لائن ہے مگراس کا صرف مطلع ہی آن لائن ہے اس لیے اس نعتیہ کلام کودوبارہ بھیج رہاہوں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






