محبوب میرے
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahالفت رسول لودل میں بسا اورزیادہ بلندکرتے رہودرودوں کی صدا اورزیادہ
ہوگی تم پراللہ کی عطاء اورزیادہ ہوجاؤقریب ان کے ذرااورزیادہ
ہوجائے گانزدیک خدااورزیادہ
کرتا ہی رہوں فرض محبت یوں ادامیں پوچھاجب خالق نے کیاکرتا رہامیں
سنادوں گانعت رسول روزجزاء میں جی بھرکے کروں محمدکی مدح وثناء میں
یارب تومیری عمربڑھااورزیادہ
نعرہ رسالت لگاتے ہوئے حشرمیں اٹھوں گا قیامت میں بھی دم مدینے کابھروں گا
لے چلومدینے مجھے فرشتوں سے کہوں گا جنت کومدینہ پہ میں قربان کروں گا
گھرہوگاقریب ان کے میرااورزیادہ
عزت بخشی ہے ڈال کررحمت کی ردائیں ملتی ہیں دربارمصطفی سے مجرموں کوجزائیں
رب فرمایاخطاکاردرمحبوب پرچلے آئیں ہم جوں جوں خطاؤں پہ کریں اورخطائیں
بخشش کی وہ کرتے ہیں دعااورزیادہ
بلالیا ہے آقانے قسمت پہ اپنی جھومو شہرنبی کی گلیوں میں ادب سے گھومو
جاؤگے مالامال ہوکردنیا کے محرومو روکیں گے دربان کہ جالی کونہ چومو
آئے گاغلاموں کومزہ اورزیادہ
فرمائیں گے انبیاء کسی اورکے پاس جائیں کہیں گی سب امتیںیارسول اللہ آج بچائیں
رب فرمائے گامحبوب میرے سرکواٹھائیں دوڑیں گے فرشتے ہمیں دینے کوسزائیں
سینے سے لگالیں گے پیااورزیادہ
تمنا ہے صدیقؔ کے سینے میں میرے مولا بیٹھ کرعشق کے سفینے میں میرے مولا
دیکھیں گنبدخضریٰ اسی مہینے میں میرے مولا مدفن بنے ناصرؔ کامدینے میں میرے مولا
جنت کی وہاں لگتی ہے ہوااورزیادہ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






