مرحبا مرحبا آمد رمضان
Poet: Mohsin Ali Mohsin By: Mohsin, karachiآئیں ہیں اب تو یوم صیام
کرو لیل کو اس میں قیام
رحمتوں برکتوں کے ایام
بچائیں گے دوزخ سے یہی صیام
جا چکا دوستوں ماہ شعبان
مرحبا مرحبا آمد رمضان
لوٹے گے اب تو تراویح کا مزہ
ہے نیکیوں کی بہار یہ بعد خزاں
اب شیطان کو ملیں گی خوب سزا
کرو حاصل اس میں اللہ کی رضا
رمضان کا مہینہ ہے برکتوں کا مہینہ
یہ ماہ ہے سراپا برکتوں کا مہینہ
خوب مزا دیگی اب سحر کی بیداری
اور وہ لطف بھوک میں خودداری
منور ہوگی اب سے کائنات ساری
یاللہ تو کردے بخشش ہماری
لطف کرم عام ہونے کا مہینہ
رحمتوں کا مہینہ برکتوں کا خزینہ
افطار کے وقت حاصل ہوگی مسرت
خاص ہو روزہ دار پر اللہ کی رحمت
دے خدا ہم کو عبادتوں کی ہمت
ثابت با حدیث ہے اہل صوم کی فضیلت
بوئے روزہ دار ہے خوشبو مشک کی
کرو از مہینہ برسات اشک کی
مگر یہ سب کچھ بے سود ہوجائے گا
ثواب نامہ اعمال سے کھو جائے گا
کرے گا پرستش نہ کچھ بو جائے گا
گویا ماہ رمضان میں وہ سو جائے گا
وہ جو بھوکا رہے اور کرے غیبت
جھوٹ، بےشرمی اور لگائے تہمت
خدا معاف کرنا اس ماہ میں
روزے قبول کرنا اپنی بارگاہ میں
جو قدم اٹھے خدایا تری راہ میں
اثر ہو خدایا ہماری ہر آہ میں
بچا مجھ کو روزے میں ہر گناہ سے
روز قیامت پھر دوزخ کی باہ سے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں







