مصرف زندگی
Poet: مصرف زندگی By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahحسین ابن علی کربلا میں سر اپنا کٹا کے چلے
جھکانے آئے تھے جو اپنے آگے وہی اٹھا کے چلے
منارہا ہے غم حسین کا یہ آسمان آج بھی
زخم ایسا کائنات کے ذرہ ذرہ کو لگا کے چلے
شرف زیارت کا بخش کے ابن عباس کو خواب میں
فرمایا رسول نے خون شہداء شیشی میں سما کے چلے
توہین سر حسین دیکھی نہ گئی زیدبن ارقم سے
غلام بن گئے ہوتم یزیدیوان کو بتا کے چلے
جان قربان کرکے ناموس اہلبیت پر ابن عفیف ازدی
یہی ہے مصرف زندگی دنیا والوں سے فرما کے چلے
تعظیم سر حسین کرنے سے ملی راہب کو دولت ایمان
تحریریں عبرت وانجام کی دشمنان حسین کوپڑھا کے چلے
گمان تھا یزیدیوں کو ہوں گے چرچے ہماری بہادری کے
حسین کے سر کو اسی لیے کوفہ میں پھرا کے چلے
داستان اصحاب کہف عجیب سہی عجیب تر ہے قتل میرا
قرآن کے قاری کوابن حیدر یہی سمجھا کے چلے
ادا کردیا قرض اپنے نانا کا میدان کربلا میں
یوم الست کا کیا ہوا شبیر وعدہ نبھا کے چلے
پوچھئے علماء سے لالچی قاتلان حسین کا کیا ہوا انجام
قتل ہوئے سب اسی طرح سلسلے جب سزا کے چلے
کامراں رہے امتحان صبرورضا میں شہدائے کربلا اسیران کربلا
قربان ہوکرصدیق دین اپنے نانا کا بچا کے چلے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






