مظلوم نے پکارا اے اللہ!
Poet: سعیداللہ سعید By: Saeed ullah Saeed, Karachiیہ جو دربد ہیں مسلم سب
اور کشمیر کی سب قیدی مائیں
وہ سوریا کے مقتول بچے
اور ایغور کے مسلم بے بس سب
جب پکار رہے تھے اے مسلم !
تو ہماری مدد کو آبھی جا
تو ہماری مدد کو آبھی جا
وہ غزہ کے محصور بزرگ
اور روہنگیا کی لاچار بہنیں
وہ انڈیا میں لٹی عصمتیں
اور چیختیں حوا کی بیٹیاں
جب ہوگئے مایوس ہم سے
تب اللہ کو پکارا انہوں نے
کہا انہوں نے پھر رب سے یہ
کوئی ہماری مدد کو نا آیا
سب اپنے مفاد کے قیدی ہیں
کوئی ہماری مدد کو نا آیا
جب عافیہ نے پکارا اے اللہ !
خالد نے کہا اب آبھی جا
ہم تیرے ہی دین کے نام لیوا
تو گر اب بھی مدد کو نا آیا
یہ کافر دل میں سوچیں گے
کہ ہیں کتنے بے بس یہ مسلماں
کہ خدا ان کی مدد کو نا آیا
یہ ہمیں بہت ستائیں گے
اور زندہ ہمیں کھا جائیں گے
پھر جو پیچھے رہیں گے اے خدا
وہ بس نام کے رہیں گے مسلماں
پھر جب خدا کو میرے جلال آیا
پھر جلال میں جب وہ قہار آیا
تو اس نے کہا ایک مخلوق سے
جاکہ سب کو سبق سکھا،تو جا
اور یہ بھی بتادے سب کو تم
کہ تم بے بس تھے، تم بے بس ہو
اور رہوگے ہمیشہ بے بس تم
یہ جو وائرس ہر سو پھیلا ہے
جس نے کردیا بے بس سب کو
یہ عذاب ہی تو ہے جو اللہ نے
دنیا کو ڈرانے بھیجا ہے
یہ مخلوق ہے اللہ کی ادنی سی
جس نے سب کچھ بند کردیا
جس سائنس پہ دنیا مغرور بہت
اس سائنس نے گھٹنے جب ٹیک دیے
تو پھر کوئی تدبیر نہ کام آیا
تو پھر کوئی تدبیر نہ کام آیا
تو ذرا سوچ تو لیں تو اے انسان
کہ تو ہے کتنا کمزور نادان
کل جو ملنے کو بے تاب بہت
آج اپنوں سے بھی تو چھڑائے جان
جب ہوگئی حیثیت معلوم
تو پھر کیسی اکڑ اور کیسا غرور
بس آجا پلٹ اب آبھی جا
نہیں تجھ سے زیادہ کوئی مجبور
سب ظلم و ستم تو چھوڑ دیں
مسلم کو ستانا چھوڑ دیں
اسلام کو مٹانا چھوڑ دیں
کہ اسی میں تیری عافیت ہے
کہ اسی میں تیری عافیت ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






