میرا بھی ان کو سلام کہنا
Poet: Kashif Imran By: Kashif Imran, Mianwaliنبیﷺ کے در پہ جانے والے
سر کو اپنے وہاں جھکانے والے
بیٹھ کر سبز گنبد کی چھاؤں میں
داستاں اپنی سنانے والے
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
در، در ہم تو پھر رہے ہیں
اپنی ہی نظروں سے گر رہے ہیں
راہ اپنی کھوئی ہوئی ہے
قسمت اپنی سوئی ہوئی ہے
راہ اپنی پانے والے
قسمت اپنی جگانے والے
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
کیا کہوں میں، کیا کر رہا ہوں
روز جی، جی کے مر رہا ہوں
مانا کہ مجھ میں ہر کمی ہے
پھر بھی آقاﷺ پہ نظر جمی ہے
حالِ دل وہاں سنانے والے
نظر اپنی وہاں جھکانے والے
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
زندگی گناہوں سے بھر پور ہے
منزل میری اب بہت دور ہے
مراد اپنی کوئی، بر آتی نہیں ہے
راہ اب کوئی نظر آتی نہیں ہے
مراد اپنی پانے والے
کلی دل کی کھلانے والے
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
خطا پر خطا کئے جا رہا ہوں
بے عمل زندگی جئے جا رہا ہوں
گناہوں نے دل کو سیاہ کر دیا ہے
نہ جانے کیاسے کیا کر دیا ہے
خطاؤں کو اپنی مٹانے والے
زندگی اپنی بنانے والے
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
آقاﷺ کاامتی ہوں، وہی بھرم رکھیں گے
وہی میری سنیں گے، وہی کرم کریں گے
عشقِ مصطفی کی شمع دل میں اگر جل جائے گی
بُری ہر تقدیر زندگی کی کاشف، پھر تو ٹل جائے گی
محبت اُن کی دل میں بسانے والے
تقدیر اپنی خود بنانے والے
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
میرا بھی اُن سے سلام کہنا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






