میری پہلی نعت
Poet: Dr.Muhammed Husainb Mushaid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonمیری پہلی نعت
ناچیز کی دسویں جماعت میں یہ پہلی نعت امام احمدرضا بریلوی کی زمین میں لکھی تھی
ہے بہتر وظیفہ ثناے محمد ﷺ
خدا خود ہے مدحت سراے محمد ﷺ
اُسی کی نگاہوں میں تاثیٖر ہوگی
ہوئی جس کو حاصل لقاے محمد ﷺ
اُجالا جو پھیلا ہوا ہے جہاں میں
ہے منّت کشِ خاکِ پاے محمد ﷺ
فرشتے ادب سے وہاں آرہے ہیں
جہاں ہورہی ہے ثناے محمد ﷺ
ہیں جتنے بھی، حقدارِ جنت یہی ہیں
گداے محمد ﷺ، فداے محمد ﷺ
محمد ﷺنہ ہوتے تو ہوتے نہ عالم
زمین و زماں ہیں عطاے محمد ﷺ
جو اُن کا ہوا ہوگیا وہ خدا کا
خدا کی رضا ہے ، رضاے محمد ﷺ
دیا اِذن کعبہ کو قبلہ بنالیں
رضاے خدا ہے رضاے محمد ﷺ
حبیٖبِ خدا باعثِ کُن فکاں ہیں
نہیں کوئی ایسا سواے محمد ﷺ
گنہ گارو! محشر کی گرمی کا ڈر کیا
ہیں کوثر پہ تشریف لاے محمد ﷺ
صدائے دلی اور وِردِ زباں ہو
ہمیشہ دُرود و ثناے محمد ﷺ
ہے مجھ پر کرم مُرشدِ باصفا کا
ہے باالواسطہ یہ عطاے محمد ﷺ
رضا کے کرم سے بنی نعتِ اوّل
جو اوّل رَقَم کی ثناے محمد ﷺ
مُشاہدؔ یہ آنکھیں ہیں کس کام کی پھر
نہ دیکھے اگر جلوہ ہاے محمد ﷺ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






