نبی کے پھول وہ بکھرے پڑے ہیں ریت پر
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillعلی اصغر کے کھلونے پڑے ہیں ریت پر
نبی کے پھول وہ بکھرے پڑے ہیں ریت پر
نگاہ فلک نے منظر یہ کب دیکھا ہو گا
جابجا عشق کے سجدے پڑے ہیں ریت پر
عرش کے تھر تھرا اٹھنے کی صدا آئی ہے
یہ کس کے خون کے قطرے پڑے ہیں ریت پر
خلد پہ حوریان ناز رشک کرتی ہیں
علی اکبر کے وہ سہرے پڑے ہیں ریت پر
گونجتی ہے فضا میں دور صدائے سکینہ
نبی کی آل کے لاشے پڑے ہیں ریت پر
موت سے زندگی کی روح پھوٹتی دیکھو
زندگانی کے سفینے پڑے ہیں ریت پر
نبی کے نام پہ قائم ہیں جسکی بنیادیں
اسی فردوس کے زینے پڑے ہیں ریت پر
درد سے منہ کو آتا ہے کلیجہ یارب
تیری جنت کے شہزادے پڑے ہیں ریت پر
کہیں عباس علمدار تو کہیں قاسم
بزم ہستی کے اجالے پڑے ہیں ریت پر
خیموں سے زینب طاہرہ نے پکارا شاید
میرے بھیا کے دلارے پڑے ہیں ریت پر
تجھے کیوں موت نہ آئی اے بہتے آب فرات
وہ اہل بیت پیاسے پڑے ہیں ریت پر
اے ارض کرب وبلا پیاس بجھی کیا تیری؟
جنتیں بانٹنے والے پڑے ہیں ریت پر
لہو کی بوند بوند میں سے روشنی پھوٹے
فلک کے چاند ستارے پڑے ہیں ریت پر
خون شبیر سے ملتا ہے زندگی کا درس
فرات “کن“ کے کنارے پڑے ہیں ریت پر
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






