نعت رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Poet: Allama Khalid Roomi By: Kifayat Ullah, Rawalpindi افضل الانبیا ، ہادیء دوسرا ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
آپ خیر الورٰی اور حبیب خدا ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
فخر جن و بشر، رشک ارض و سما ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
حامی بیکساں، نور غار حرا ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
آپ کی ہر ادا دلنشیں، دلربا ، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
آپ سا کب کوئی دہر میں دوسرا ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
آپ کا ہر قدم رحمتوں کا علم، آپ کی ذات سے عاصیوں کا بھرم
رحمت عالمیں ہے لقب آپ کا ، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
جشن معراج کی چھڑ گئی بات جب، کھل گیا اس گھڑی دفتر راز سب
ہو گیا روبرو آپ کے پھر خدا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
ہیں نبی یوں جہاں میں ہزاروں مگر، سب کے سب ہیں خدا کی قسم معتبر
رتبہء مصطفٰی سب سے لیکن سوا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
دہر میں آپ کی ذات نور خدا، آپ سا کوئی ہم نے نہ دیکھا ، سنا
آپ کے دم سے شمس و قمر میں ضیا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
آپ کا وصف بخشش، کرم ، خلق ہے، معتبر آپ سے ہر قدم خلق ہے
دشمنوں کو بھی دی آپ نے ہے دعا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
بہر سبطین اور فاطمہ و علی ، بہر غوث جلی، بہر ہند الولی
بہر مہر علی حا جتیں ہوں روا ، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
جب مدینے سے چل کے ہے آئی ہوا ، دل خوسشی سے مرا جھومنے ہے لگا
خود بخود لب پہ نغمہ یہ جاری ہوا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
یا الٰہی ! پھلے ہر گھڑی یہ چمن ، مرحبا گلشن مصطفٰی کی پھبن
فیض جاری رہے ساقیء بطحٰی کا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
کیا عجب شان معبود ہے سامنے، ہر گھڑی آج مسعود ہے سامنے
کہہ اٹھا پھر یہ رومی بھی ہے برملا، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں







