وہ چہرے میں نے دیکھے ہیں
Poet: ابو عکاشہ الغریب By: Abu Akasha Al-Gharib, Lahoreوہ چہرے میں نے دیکھے ہیں
جو راہ وفا پہ چل چل کر
اک روز بہت تھک جاتے ہیں
لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر
وہ اپنے زخم چھپاتے ہیں
ان گہری جھیل سی آنکھوں میں
کچھ موتی سے بن جاتے ہیں
ان چہروں سے میں کہتا ہوں
مجھے اپنے پیارے رب کی قسم
تم لوگ بہت
خوش قسمت ہو
اس راہ کے دکھ اس راہ کے غم
قسمت والوں کو ملتے ہیں
یہ چشم نم، یہ آلودہ قدم
دولت والوں کو ملتے ہیں
یہ درد کے ساغر، جام و جم
نسبت والوں کو ملتے ہیں
اس راہ میں رسوائی کے علم
عزت والوں کو ملتے ہیں
یہ چہرے جب بھی دیکھتا ہوں
میری آنکھوں کے آگے
وہ منظر گھوم سا جاتا ہے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب شاہ گدا بن جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
اس روز تمہارے یہ چہرے
اک چاند کی صورت چمکیں گے
اس روز تمہاری ہی خاطر
رستوں کو سجایا جاۓ گا
پلکوں کو بچھایا جاۓ گا
خوشبو کو لٹایا جاۓ گا
تم لوگ بہت خوش قسمت ہو
یہی ہے کامیابی کا راستہ عکاشہ
مجھے اپنے پیارے رب کی قسم
تم لوگ بہت خوش قسمت ہو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






