پرؤے جا رہی ہوں میں
Poet: Bushra babar By: Bushra Babar, Islamabadپرؤے جا رہی ہوں میں
اک اک موتی تسبیح میں
نا جانےیہ کب بکھر جاۓ گی
اور سانوں کا بندن ٹوٹ جائےگا
اوقات اتنی سی ہےدنیا میں
کہ ڈھیر ہو جاو گی مٹی میں
روح جسم سے جاۓ گی
اور وجود ختم ہو جائے گا
ناجانے کیا غرور ہے اس میں
نا بہت کچھ خاص ہے اس میں
یہ اکڑ ختم ہو جائے گی
جسم جب خاک ہو جاۓ گا
مست ہو اپنی دنیا میں
اور ڈوبی ہو رنگینیوں میں
یہ غفلت تمہیں کھا جاۓ گی
تب ہوش تمہیں آ جائے گا
سمبھال خود کو اس وقت میں
کچھ رکھا نہیں ہے غفلت میں
یہ سانس بھی رک جائے گی
اور تم دیکھتی رہ جاؤ گی
سب دھوکہ ہے دنیا میں
کچھ نہیں اس ویرنے میں
بس طلب ہی رہ جائے گی
تیرا دل دھڑکتا رہ جائے گا
کچھ نہیں اس مال وزر میں
اس دولت ،عزت،شہرت میں
یہ دولت سب رہ جائے گی
ہاتھ میں کچھ نہ آے گا
کیوں خوف نہیں تیرے دل میں
کہ تجھے جانا ہے قبر میں
دفنا کے دنیا جائے گی
پھر تم اکیلی رہ جاؤگی
پیچھے رہ نہ جائے تو
منکر نکیر جب آئیں گے
ایک ایسی منزل بھی آے گی
اور تو سوچتی رہ جائے گی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






