پیران پیر
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahدل کے بغدادمیں ہے ٹھکانہ غوث اعظم کا
مناتاہے یادغوث کی دیوانہ غوث اعظم کا
ولادت غوث پرجہاں بھی پیداہوئے بیٹے ہوئے
بعدنبی کے معیارہے جداگانہ غوث اعظم کا
رہتے تھے روزہ سے ایام شیرخواری میں بھی
رہے گایادبچپن کازمانہ غوث اعظم کا
غریب ترین تھا شہرمیں امیرترین بن گیا
مل گیاجب مریدکونذرانہ غوث اعظم کا
قطب بنادیے جرم کرنے والے ہوگئے ولی
کردیتاہے تبدیل تقدیریں آستانہ غوث اعظم کا
بڑے ملالی رہے والدغوث بغیراجازت کھانے پر
کتناپاکیزہ ہے دیکھوآب ودانہ غوث اعظم کا
نانانبی ہے باباعلی ہے حسنی حسینی ہیں
بڑی عظمت شان والاہے گھرانہ غوث اعظم کا
سنادیے اٹھارہ سیپارے پہلے ہی دن استاد کو
رہاشکم مادرپہلامکتب خانہ غوث اعظم کا
جانتے ہیں بہت کم مسلمان آج تک یہ بات
کتناارفع اعلیٰ ہے ذوق شاعرانہ غوث اعظم کا
ملے ہیں اوصاف انبیاء کرام کے پیران پیرکو
خلق رسول ہی ہے خلق کریمانہ غوث اعظم کا
ملتا ہے لطف وسرورصدیق ؔ انہیں الفت اولیاء سے
سنتے ہیں جوسناتاہے ترانہ غوث اعظم کا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






