چاند دیکھو نہ چاندنی دیکھو
Poet: Wasim Ahmad Moghal By: Wasim Ahmad Moghal, lahoreچاند دیکھو نہ چاندنی دیکھو
سبز گنبد کی دلکشی دیکھو
تارے جس کا طواف کرتے ہیں
وہ مدینے کی ہے گلی دیکھو
کہکشاں بچھ رہی ہے راہوں میں
کون آیا ہے آدمی دیکھو
پاؤں چومے ہیں آسمانوں نے
اِس کو کہتے ہیں برتری دیکھو
جس کو دیکھا تھا غار میں تُو نے
اُس کو سدرہ کے پار بھی دیکھو
رب نے بُلوا کے میزبانی کی
ایسی عزت کسے ملی دیکھو
اِک عجب سا سرور رہتا ہے
جب تصور میں بھی کبھی دیکھو
یاں غیاب و حضور ایک سے ہیں
صاحبِ علم و آگہی دیکھو
سب مسائل کا حل ہو جس کے پاس
ہے کوئی ان سا فلسفی دیکھو
سب غریبوں کے آپ والی ہیں
کوئی ایسا بھی ہے سخی دیکھو
سب یتیموں سے پیار کرتے تھے
یہ تھی شفقت حضور کی دیکھو
جو سوالی بھی در پہ آیا ہے
اُس کی جھولی بھری ہوئی دیکھو
ظلمتیں جس سے دور ہوتی ہیں
اُن کے چہرے کی روشنی دیکھو
کلفتیں دل کی مِٹ گئی ساری
ایسی ہوتی ہے دلبری دیکھو
اِس پہ قربان عظمتیں ساری
فقر دیکھو یا عاجزی دیکھو
سارے عیبوں سے پاک ہیں آقا
یہ ہے معراجِ زندگی دیکھو
آپ ہر طرح سے مکمل ہیں
کیا کوئی رہ گئی کمی دیکھو
اپنے دل کو ہوس سے پاک کرو
اور پھر شانِ بندگی دیکھو
پہلے اُن کو امام کر لو تم
اور پھر لطفِ پیروی دیکھو
جن کے لب پر درود ہوتا ہے
اُن کی آنکھوں میں بھی نمی دیکھو
پہلے بن جاؤ تم نبی کے غلام
اور پھر بندہ پروری دیکھو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






