چشم بینا کیلیے پردہ ہٹانا ہوگا
Poet: RABNAWAZ By: rabnawaz, RIYADHچشم بینا کیلے پردہ ہٹانا ہوگا
خاک مدینہ کو سرمہ بنانا ہو گا
اگر چاہے دو عالم کی کامرانی
انوار مدینہ سے خود کو چمکانا ہوگا
اگر طلب ہے کائناپ پہ چھانے کی
گنبد خضری کے سائے میں آنا ہوگا
اگر بجھانا چاہتے ہو ظلمت کی آگ
ابر مدینہ دشت عالم پہ برسانا ہوگا
اگر مٹانا چاہتے ہو یتیمی کا احساس
یتیموں کے والی کا بچپن دہرانا ہوگا
اگر خائف ہو ہجرت کے سانپوں سے
دامن غار ثور میں ایک بار جانا ہوگا
طفل شفقت سے ویراں ہے اگر قریہ آدم
حسنین کے بچپن کو چشم تخیل میں لانا ہوگا
اگر بھوک سے لرزیں ایمانوں کے ستون
بتول کے بابا کے گھر کو دیکھانا ہوگا
اگر اسیر ہو تخت شاھی کے قفس میں
منبر تاجدار عالم آنکھوں میں بسانا ہو گا
اگر مٹانا چاہتے ہو نا انصافی کے خیمے
پیغام منبر رصول پڑھ پڑھ کر سنانا ہو گا
اگر چاھے دنیا میں امن کی بہار
مدینے کی کلیوں سے آنگن سجانا ہوگا
ڈھونڈے بہت اصلاح کے متبادل راستے
منزل جس کیلے تڑپے اس گلی میں جانا ہوگا
بس کافی ہے میرے لیےشمع رسالت
جو روشنی نہ دیں ان دیوں کو بجھانا ہوگا
اس کے علاوہ کچھ نہیں خم گیسوئے حیات کے
آنے سے جانا اور پھر جانے سے آنا ہو گا
کوئی اور نہیں منزل در نبی کے بعد
سارے کچے گھروں کو اب گرانا ہوگا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






