آؤ مل کے یہ سوچتے ہیں کیوں اپنی حالت ہوئی ہے خستہ
کیوں زندگی اب ہے بوجھ لگتی کیوں ہوئے ہم ہیں دل شکستہ
انسان تو ہے خطا کا پُتلا آؤ اتنا تو احساس کر لیں
جہاں تھم جائیں اشک اپنے وہیں سے ملے گا کوئی رستہ
بنیں سہارا نہ کیوں دوسرے کا کہ آگے رستہ بھی پُر خطر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کیوں نہ آج ہم یہ بھی سوچیں کہ دل میں غصہ کیوں اب تلک ہے
زمیں پہ چلنا ہوا کیوں مشکل کیوں اب بھی دشمن یہ فلک ہے
کیوں اپنے خوابوں پہ اب قائم کیوں نہیں زندگی پھر سے دائم
ضرورت اب تک ہے کیونکر باقی کسی کی مُسکاتی اک جھلک ہے
کیا نہیں تمہیں اتنا لگتا کسی نظر بد کا یہ کوئی اثر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں ہمیں ہے بڑھنا محبتوں کے عَلم لے کر
ہے کاٹنا ساری نفرتوں کو ہتھیار اپنا قلم لے کر
بہت کچھ ابھی ہے کرنا ہے نئے خوابوں میں رنگ بھرنا
نکلیں اپنے حصار سے ہم من میں نیا اک حَلم لے کر
دور ہے بہت اپنی منزل نظر میں کسی اور کا یہ گھر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
آؤ سوچیں فروغ دینا ہے ہمیں نئی رفاقتوں کو
پھر سے مَن میں ہیں پھول بھرنا ہے یاد رکھنا نفاستوں کو
آؤ سوچیں کریں گے جذبوں کو نئے رنگوں سے آشنا ہم
ہے دوستی کا خیال رکھنا ہے جاننا نئے راستوں کو
تھا جو ہونا وہ ہو چکا بھلا کس چیز کا اب کوئی ڈر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں کہ دل کی باتیں ہمیں ہے اک دوسرے سے کہنا
منزل پانے کے راستے میں آنے والا ہے ہر دکھ سہنا
بے شک ہم کو ہے آگے بڑھنا نئے جذبوں کا جوش لے کر
ہے اپنا بھی ہمیں خیال کرنا مگر ہمیں ہے مل کے رہنا
اَن تھک محنت ہمیں ہے کرنا کہ دُور جانا کسی نگر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کرو یہ وعدہ کہ آج سے ہم اک نئے رشتے کو جوڑتے ہیں
گئے دنوں کی تمام تلخی ہر ایک خفت کو چھوڑتے ہیں
کیا کہاں کب ہوا تھا کیسے کون تھا خطا وار کتنا
گلے شکوے بھلا کے سارے رخ اپنی سوچوں کا موڑتے ہیں
مدد آپ اپنی کرو جو ناصر نہیں دُور پھر کوئی بھی نصر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے