کھجوروں کے چھپر کے حجرے کا باسی

Poet: Sameera By: Adnan, Abbottabad

کھجوروں کے چھپر کے حجرے کا باسی
چٹائی پہ راتیں بسر کر نے والا

وہ اک ر حمت دو جہاں اور پھر بھی
سدا نان جو پہ گزر کر نے والا

ذلالت زوہ نو حِ انساں کے ﻏم میں
مصلے کو اشکوں سے تر کرنے والا

ﺧـدا کے گناہگار بندوں کی ﺧـاطر
دُعائوں میں رو رو سحر کرنے والا

مواﺧـات کی بزم آراستہ ھے
وہ دیکھو مہاجر وہ انصار دیکھو

ھر اک نے ھر اک چیز تقسیم کردی
محبت وہ دیکھو' وہ ایثار دیکھو

رہا کارزار حنین واحد میں
کھڑا استقامت کی دیوار بن کر

پڑا حق پہ جب بھی کھٹن وقت کوئی
وہ نکلاعساکر کا سالار بن کر

زمانے کی محفل کو جس نےسنوارا
ﺍﺳﮯ حق نے محبوب کہہ کرپکارا

کروڑوں سلام ﺍس مقدس نبی پر
تھا ٹوٹے دلوں کا مہرباں سہارا

Rate it:
Views: 1551
14 Oct, 2021