گو میں اس قابل نہ تھا
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAآپ نے اپنا بنایا ، گو میں اس قابل نہ تھا
شرفِ مدحت کو بلایا،گو میں اس قابل نہ تھا
کہتی ہے دنیا ، کہ آقاﷺ کا مرے سایہ نہ تھا
دیکھوں ہر جا انکاﷺ سایہ ، گو میں اس قابل نہ تھا
یہ حقیقت ہے کہ سن کر نعت و ذکرِ مصطفےٰﷺ
کیف رگ رگ میں سمایا گو میں اس قابل نہ تھا
وہ مسرت کا سماں ہویا مصیبت کی گھڑی
نام تیرا ﷺکام آیا گو میں اس قابل نہ تھا
میرا ایماں ہے کہ آئے ہیں مرے سرکا ر ﷺ بھی
خوشبو ؤں نے ہے بتایا ، گو میں اس قابل نہ تھا
میرے دامن میں ندامت کے ، سوا کچھ بھی نہ تھا
ہوگیا رحمتﷺ کا سایہ ، گو میں اس قابل نہ تھا
گرقبول افتد ، زہے عز و شرف کاوش مری
ہوں سنانے کو جو آیا ، گو میں اس قابل نہ تھا
میں نہیں نازاں عمل پر، میرا سرمایہ ادب
بس یہی سیکھا سکھایا ، گو میں اس قابل نہ تھا
قعرِ ِ ذلت میں گرا تھا ، عاصی و بدکار تھا
پھر بھی سینے سے لگایا ، گو میں اس قابل نہ تھا
انکی ﷺ مدحت پڑھنا ، سننا بھی بڑا اعزاز ہے
لحن مرا کام آیا ، گو میں اس قابل نہ تھا
جب بھی ذکر مصطفےٰ ﷺکی ہو ، سجی محفل کہیں
مانندِ پروانہ آیا ، گو میں اس قابل نہ تھا
بھیج کر تو دیکھ ناداں ، ان پہ گلہائے درود
کیانہیں جو میں نے پایا ، گو میں اس قابل نہ تھا
احترام ِ مصطفی ﷺ ، دل میں رہا تھا جاگزیں
مفتی پلٹی میری کایا ، گو میں اس قابل نہ تھا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






