ہوا کربلا میں جو قربان برقیؔ

Poet: برقی اعظمی By: Hassan, Karachi

عجب خونچکاں کربلا کا سماں تھا
تھے سب تشنہ لب اور دریا رواں تھا

مصیبت کے ماروں کا اک کارواں تھا
ہر اک غم زدہ بوڑھا بچہ جواں تھا

تھا اک عالم حشر ہر سمت گویا
تھا بد حال ہر شخص جو بھی جہاں تھا

سسکتے تھے بچے بلکتی تھیں مائیں
جو انسان بھی پیاس سے ناتواں تھا

ستم آج بھی اس کا ورد زباں ہے
یزید لعیں جو وہاں حکمراں تھا

تھا خیموں میں کہرام جو جل رہے تھے
ہر ایک سمت جیسے دھواں ہی دھواں تھا

ہوا کربلا میں جو قربان برقیؔ
حسین ابن حیدر کا وہ خانداں تھا

Rate it:
Views: 1219
09 Aug, 2021