اے دو جہاں کے والی

Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, India

اے دوجہاں کے والی سب کا تو ہی سہارا
کوئی نہیں جہاں میں جو ہوسکے ہمارا

ہر سو چمن میں تیری قدرت کے ہی نظارے
ہر سو چمن میں تیرے بکھرے ہیں جلوے سارے

جیتے ہیں نیک و بد بھی تیرے کرم سے سارے
ہوجائے جو خطا بھی بخشش کے ہیں اشارے

لطف و کرم کا تیرے کوئی نہیں کنارا
اے دوجہاں کے والی سب کا تو ہی سہارا

کوئی نہیں جہاں میں جو ہوسکے ہمارا
تونے سکھائے مولی جینے کا ہر قرینہ

تیرے ہی پاس تو ہے ہر چیز کا خزینہ
طوفان سے بچایا جب نوح علیہ السلام کا سفینہ

اپنے خلیل علیہ السلام پر بھی نازل کیاسکینہ
تو نے ہی لاج رکھی مضطر نے جب پکارا

اے دوجہاں کے والی سب کا تو ہی سہارا
کوئی نہیں جہاں میں جو ہوسکے ہمارا

ایوب علیہ السلام کی بھی مولیٰ تو نے سنی دہائی
مچھلی کے پیٹ سے ہی یونس علیہ السلام کو دی رہائی

یعقوب علیہ السلام کی ہی تو نے لوٹائی بھی بینائی
لطف و کرم سے تیرے یوسف علیہ السلام نے قدر پائی

تجھ سے ہی آس سب کی تیرے سوا نہ چارہ
اے دوجہاں کے والی سب کا تو ہی سہارا

کوئی نہیں جہاں میں جو ہوسکے ہمارا
کیا خوب سلطنت سے سلیمان علیہ السلام کو نوازا

فرعون کے ستم سے موسی علیہ السلام کو تو بچایا
تیرے کرم سے مولی عیسی علیہ السلام نے چین پایا

اپنے ہی نیک بندوں کا تو ہی ہے مداوا
تیرے سوا ہی مولیٰ کچھ بھی نہیں گوارا

Rate it:
Views: 70
24 Jul, 2022
More Religious Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets