اقبال تیرے دیس کا کیا حال سنائوں
بے باقی و حق گوئی سے کتراتا ہے مومن
خوشامد و منافقت میں ہے اس کی کامیابی
مکاری و چالاکی پہ اپنے اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ہو ڈر
اسی رزق کو شوق سے کھا جاتا ہے مومن
اپنے ہر کردار پر خود ہی ہے خوش و خرم
پرواہ نہیں، بے حس گر کہلاتا ہے مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا عامل
باتیں تو بہت دین کی بتلاتا ہے مومن
کتنوں کا حال زار سنائوں اور آئینہ دکھائوں
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سنائوں
٢٣ مارچ ٢٠١٤ ء کو اپنے پیارے پاکستان
کے مسلمانوں کی حالات زار کو دیکھتے
ہوئے ہماری ویب کے قارئین کی نذر ہے۔