تجھ سے ہی مانگتا ہوں دونوں جہاں کی خوشیاں
Poet: Ausaf Ahmad By: Ausaf Ahmad, Karachi تجھ سے ہی مانگتا ہوں ‘ دونوں جہاں کی خوشیاں
تیرا ہی نام لے کر ‘ کی میں نے ابتدا ہے
تیرے کرم سے قائم ‘ ہے آج میری ہستی
پرور دگار ِ عالم ‘ تیرا ہی آسرا ہے
میں تجھ کو یاد رکھوں ‘ اور خود کو بھول جائوں
اب میری بندگی کی ‘ بس یہ ہی انتہا ہے
ہوں مطمئن خدایا ‘ اس تیری بندگی سے
مجھ پہ فضل ہے تیرا ‘ کیوں کہ مرا خدا ہے
جب سے ہے تو نے بھیجا ‘ آدم کو اس زمیں پر
دنیا کی نعمتوں کا ‘ کچھ اور ہی مزا ہے
دیتا ہے سب کو روزی ‘ کافر ہو یا مسلماں
تیری عطا کا مولا ‘ کیسا یہ ماجرا ہے
تو نے بنایا ہمکو ‘ بس ایک ہی طرح سے
فطرت میں آدمی گو ‘ ہر اک جدا جدا ہے
تیری عطا کے صدقے ‘ جس باغ کو بھی دیکھو
پھولوں سے اور پھلوں سے ‘ اب خوب ہی لدا ہے
تاروں کو دیکھو شب میں ‘ سورج کو جب سحر میں
تیرے ہی فن کا جادو ‘ سر چڑھ کے بولتا ہے
پختہ یقیں ہے ہم کو ‘ تو بخش دے گا سب کو
تو رب ِ دو جہاں ہے ‘ یہ تیری اک ادا ہے
ہم ہیں خطا کے پتلے ‘ ہم ہیں سدا کے عاصی
تو معاف کردے ہم کو ‘ گرچہ کڑی سزا ہے
کر دے تو در گز ر اب ‘ اپنی سبھی خطائیں
یہ آرزو ہے میری ‘ یہ میری التجا ہے
تجھ سے ہی مانگتا ہوں میں بھیک اب کرم کی
اوصاف کی ہمیشہ ‘ تجھ سے یہی دعا ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






