یہ صدی آپ کی وہ صدی آپ کی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا یہ صدی آپ کی وہ صدی آپ کی
ہر زمانے میں ہے سروری آپ کی
کلی دل کی ایک ایک کھلنے لگی
گفتگو جب سنی شبنمی آپ کی
پھول ہی پھول کھلنے لگے ہر طرف
جب بھی باد بہاری چلی آپ کی
میں تو اس دل کو دل ہی سمجھتی نہیں
جس کو کھنیچے نہیں دلکشی آپ کی
وہ سدا ظلمتوں میں بھٹکھتی رہی
جس نے دیکھی نہیں روشنی آپ کی
وہ مسلماں یقینا مسلماں نہیں
چھوڑ دے جو اگر پیروی آپ کی
وہی ثابت ہوئے اسفل انسافلین
جو نہیں جانتے برتری آپ کی
میرا مولا بھی راضی اسی سے ہوا
رضا جس کسی کو ملی آپ کی
وہ جو جنت ہے پرتو اسی کا تو ہے
سلطنت جو مدینہ میں تھی آپ کی
اس سے اونچا بھی ہو گا کوئی رتبہ
میزبانی خدا نے جو کی آپ کی
تو تو حیران ہے ایک معراج پر
ساری معراج ہے زندگی آپ کی
کتنے رازوں سے پردہ اٹھاتی رہی
گفتگو آپ کی خامشی آپ کی
گھتیاں فلسفوں کی سلجھنے لگیں
جب سے حاصل ہوئی آگہی آپ کی
ہر طرف سے مصائب تھے گھیرے ہوئے
جب میسر نہ تھی رہبری آپ کی
دور ہونے لگیں سب پریشانیاں
جب سے ہم نے ہے کی پیروی آپ کی
آسماں کہکشاں تارے شمس و قمر
رشک سے دیکھتے ہیں گلی آپ کی
اپنے رب سے دعا ہے کہ اب عمر بھر
میں بھی کرتی رہوں شاعری آپ کی
بس رلاتی وشمہ کو کمی آپ کی
اے نبی اے نبی اے نبی آپ کی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






