ترانے نور کے
Poet: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonصبح طیبہ میں ہوئی بٹتے ہیں صدقے نور کے
صدقے لینے نور کے آے ہیں تارے نور کے
ہیں مرے آقا بنے سارے کے سارے نور کے
ذکر اُن کا جب بھی ہوگا ہوں گے چرچے نور کے
دل میں نظروں میں بسیں طیبہ کی گلیاں نور کی
روح میں بس جائیں طیبہ کے نظارے نور کے
داغِ فرقت نور والے شہر کا اب دیں مٹا
گنگناوں آکے طیبہ میں ترانے نور کے
طلعتِ آقا لحد میں میری جلوہ گر تو ہو
’’قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے ‘‘
نوری سُرمہ خاکِ طیبہ کا لگاوں آنکھ میں
اپنی نظروں میں بسالوں میں ستارے نور کے
آپ کے زیرِ قدم ہیں سارے نیچر کے اُصول
پائے اطہر کے بنے پتھر میں نقشے نور کے
چشمۂ تسنیم و کوثر اور بہارِ خُلد بھی
زُلفِ احمد کیلئے ہیں استعارے نور کے
نورِ احمد ہے عیاں سارے جہاں میں بے گماں
جتنے جلوے بھی ہیں دنیا میں ہیں ان کے نور کے
نور والوں کا گھرانا اپنا مارہرہ شریف
جِھلملاتے جیسے پر تَو مصطفیٰ کے نور کے
خاندانِ پاکِ برَکاتِیہَّ کے فیضان سے
پھل رہے ہیں چار جانب ’’ نوری شجرے ‘‘ نور کے
اعلیٰ حضرت کے ’’ قصیدئہ نوریہ ‘‘ کے فیض سے
اے مُشاہدؔ لکّھے میں نے کچھ ترانے نور کے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






