Poetries by sumera ataria
سنو ایسا نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سنو ایسا نہیں کرتے
بہت خاموش لوگوں سے الجھا نہیں کرتے
جس سے محبت ہو اس کو دنیا میں
رسوا کیا نہیں کرتے
جو نہ نبھا سکےوعدہ اس سے
شکوہ کیا نہیں کرتے
لفظوں سے کسی اپنے کا دل
دکھایا نہیں کرتے
محبت میں کسی کو
آزمایا نہیں کرتے
جو آپ کو دے پیار میں زخم اس سے کبھی
بدلہ لیا نہیں کرتے
محبت میں کسی سے مقابلہ
کیا نہیں کرتے
سنو ۔۔۔۔۔ایسا نہیں کرتے
بہت خاموش لوگوں سے الجھا نہیں کرتے Sumera
بہت خاموش لوگوں سے الجھا نہیں کرتے
جس سے محبت ہو اس کو دنیا میں
رسوا کیا نہیں کرتے
جو نہ نبھا سکےوعدہ اس سے
شکوہ کیا نہیں کرتے
لفظوں سے کسی اپنے کا دل
دکھایا نہیں کرتے
محبت میں کسی کو
آزمایا نہیں کرتے
جو آپ کو دے پیار میں زخم اس سے کبھی
بدلہ لیا نہیں کرتے
محبت میں کسی سے مقابلہ
کیا نہیں کرتے
سنو ۔۔۔۔۔ایسا نہیں کرتے
بہت خاموش لوگوں سے الجھا نہیں کرتے Sumera
خود سے گفتگو بھی نہیں کلام تجھ سے نہیں خود سے گفتگو بھی نہیں
کسی بھی تیغ سے اب رشتہء گلو بھی نہیں
یہ کیسے ہجر کے دن ہیں کہ دل تو خون ہوا
جو رونا چاہا تو اب آنکھ میں لہو بھی نہیں
اسی کو کہتے ہیں شاید مقام وصل و فراق
کہ جس مقام پہ میں بھی نہیں ہوں تو بھی نہیں
خیال چارہ گری آج اس کا آیا ہے
کہ میرے زخم کو جب حاجتِ رفو بھی نہیں
ہماری بزم میں موضوعِ گفتگو تھا وہی
وہی نہیں ہے تو اب کوئی گفتگو بھی نہیں
یہ میرے شوقِ تجسس کو کیا ہوا الیاس
وہ سامنے بھی نہیں اس کی جستجو بھی نہیں
سمیرا عطاریہ
کسی بھی تیغ سے اب رشتہء گلو بھی نہیں
یہ کیسے ہجر کے دن ہیں کہ دل تو خون ہوا
جو رونا چاہا تو اب آنکھ میں لہو بھی نہیں
اسی کو کہتے ہیں شاید مقام وصل و فراق
کہ جس مقام پہ میں بھی نہیں ہوں تو بھی نہیں
خیال چارہ گری آج اس کا آیا ہے
کہ میرے زخم کو جب حاجتِ رفو بھی نہیں
ہماری بزم میں موضوعِ گفتگو تھا وہی
وہی نہیں ہے تو اب کوئی گفتگو بھی نہیں
یہ میرے شوقِ تجسس کو کیا ہوا الیاس
وہ سامنے بھی نہیں اس کی جستجو بھی نہیں
سمیرا عطاریہ
اندھیری رات میں اندھیری رات میں جگنو ستارے ڈھونڈتے رہنا
بھنور میں سب پے واجب ہے کنارے ڈھونڈتے رہنا
کبھی دیوار سے رشتہ کبھی در تھام لیتے ہیں
عجب قسمت غریبوں کی سہارے ڈھونڈتے رہنا
محبت کرنے والوں کے تقاضے بھی نرالے ہیں
منافع بخشتے رہنا خسارے ڈھونڈتے رہینا
تمھیں جو شوق ہے قصے پُرانے پڑھتے رہنے کا
کبھی تاریخ لکھے گی ہمارے, ڈھونڈتے رہینا
مجھے محسن دی تھی بد دُعا اُس نے بچھڑتے ہی
تمھیں بھی مِل نہ پائیں گے تھمارے, ڈھونڈتے رہنا سمیرا عطاریہ
بھنور میں سب پے واجب ہے کنارے ڈھونڈتے رہنا
کبھی دیوار سے رشتہ کبھی در تھام لیتے ہیں
عجب قسمت غریبوں کی سہارے ڈھونڈتے رہنا
محبت کرنے والوں کے تقاضے بھی نرالے ہیں
منافع بخشتے رہنا خسارے ڈھونڈتے رہینا
تمھیں جو شوق ہے قصے پُرانے پڑھتے رہنے کا
کبھی تاریخ لکھے گی ہمارے, ڈھونڈتے رہینا
مجھے محسن دی تھی بد دُعا اُس نے بچھڑتے ہی
تمھیں بھی مِل نہ پائیں گے تھمارے, ڈھونڈتے رہنا سمیرا عطاریہ
میری زندگی میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ کچھ میرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری اجنمن کا قریں سہی
تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا، تیری راہ گزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی
میری زندگی کا نصیب ہے، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
انہیں دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہوں، وہ ہزار پردہ نشیں سہی سمیرا عطاریہ
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ کچھ میرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری اجنمن کا قریں سہی
تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا، تیری راہ گزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی
میری زندگی کا نصیب ہے، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
انہیں دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہوں، وہ ہزار پردہ نشیں سہی سمیرا عطاریہ
کمالِ ضبط کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی
اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی
وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی
سمیرا عطاریہ
میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی
اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی
وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی
سمیرا عطاریہ