Aaj ChehChahate Hain Kal Magar Nahi Hon Ge
Poet: رشید حسرتؔ

آج چہچہاتے ہیں کل مگر نہیں ہوں گے
آشنا سے یہ چہرے بام پر نہیں ہوں گے
دل پہ ڈال کر ڈاکہ چُھپ کے بیٹھ جاتے ہیں
جا کے دیکھ لیں لیکن، لوگ گھر نہیں ہوں گے
پی کے ہم بہکتے تھے چھوڑ دی ہے اب یارو
کھائی ہے قسم ہم نے، ہونٹ تر نہیں ہوں گے
اُس کے من پسندوں میں ہم اگر نہیں شامل
جان بھی لُٹا دیں تو معتبر نہیں ہوں گے
نا ہؤا میسّر گر ساتھ آپ کا تو پھر
چند گام رستے بھی مختصر نہیں ہوں گے
ہم سے لاج چاہت کی، آبرو محبّت کی
ناز کون اُٹھائے گا، ہم اگر نہیں ہوں گے
مشورہ دیا تم کو، قیمتی ہیں یہ الفاظ
گر عمل کرو گے تو، بے اثر نہیں ہوں گے
رہبری کے پردے میں راج رہزنوں کا ہے
آج ہم نہیں یا پِھر، راہبر نہیں ہوں گے
درد وہ مِلا حسرتؔ جاں بچانے کے حربے
جتنے آزماؤ گے، کارگر نہیں ہوں گے
Aaj ChehChahate Hain Kal Magar Nahi Hon Ge Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Sad poetry in which says Aaj ChehChahate Hain Kal Magar Nahi Hon Ge. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Sad shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.