Poetries by jan kharoty
Hum Hain Ghum Ke Seane Wale Tum Khoshi Hamain Do! Hum Hain Ghum Ke Seane Wale Tum Khoshi Hamain Do
Hum Ishq Main Mar Chokey Hain Zindagi Hamain Na Do
Peley Jo Ek Lama Tum Mere Nam Na Karta
Ab Tum Bas Zindagi Ke Har Garhi Hamain Na Do
Zindagi To Ek Shama Te Tere Gham Main Ja Buja
Tum Apni Duahon Se Ab Roshni Hamain Na Do
Ek Jan Ko Chaha Hum Ne Ek Jan Ke Talab Te
Wo Jab Na De Sakey Ab Tasili Hamain Na Do jan Kharoty
Hum Ishq Main Mar Chokey Hain Zindagi Hamain Na Do
Peley Jo Ek Lama Tum Mere Nam Na Karta
Ab Tum Bas Zindagi Ke Har Garhi Hamain Na Do
Zindagi To Ek Shama Te Tere Gham Main Ja Buja
Tum Apni Duahon Se Ab Roshni Hamain Na Do
Ek Jan Ko Chaha Hum Ne Ek Jan Ke Talab Te
Wo Jab Na De Sakey Ab Tasili Hamain Na Do jan Kharoty
تم یہ وفا جو شام وسحر مانگ رہے ہو تم یہ وفا جو شام وسحر مانگ رہے ہو
مجھ سےمحبت اخر کس قدرمنگ رہے ہو
خود تم بھی لیلٰی کی محبت مجھ سے کر
مجھ سے وفا مجنون کی اگر مانگ رے ہو
تم مسجد کو کہاں میکدے کا نام دیتے ہو
روز جو شراب تم اِدھر مانگ رہے ہو
اول اول محبت کے مزے اب کہاںملتے ہیں
عجیب ہو کہ وہی لزتیں اج اخر مانگ رے ہو
تم اس جہاں کو تنہا ہی تو آئے تھے پیام
اب جاتے ہوئے کیا ہمسفر مانگ رہے ہو
تم پیام اتنے محتبر کب سے ہوئے
کہ دیداریار اپنے گھر مانگ رہے ہو jan Kharoty
مجھ سےمحبت اخر کس قدرمنگ رہے ہو
خود تم بھی لیلٰی کی محبت مجھ سے کر
مجھ سے وفا مجنون کی اگر مانگ رے ہو
تم مسجد کو کہاں میکدے کا نام دیتے ہو
روز جو شراب تم اِدھر مانگ رہے ہو
اول اول محبت کے مزے اب کہاںملتے ہیں
عجیب ہو کہ وہی لزتیں اج اخر مانگ رے ہو
تم اس جہاں کو تنہا ہی تو آئے تھے پیام
اب جاتے ہوئے کیا ہمسفر مانگ رہے ہو
تم پیام اتنے محتبر کب سے ہوئے
کہ دیداریار اپنے گھر مانگ رہے ہو jan Kharoty
خود مجھ سے یہ خطا ہو گیا خود مجھ سے یہ خطا ہو گیا
جیسے چاہا وہ بےوفا ہوگیا
یک شب غم میں گزاری ہی نہیں
وہ قیس جو عشق میں فنا ہوگیا
منکر ہواسورج کی روشنی سے پروانہ
کیا بھلا کیا جو یک شمع پے شیدا ہوگیا
جل گئے اسکے شہر اسکے عشق میں
ظالم میت پے اکے کہنے لگا کیاہو گیا
بدلنے کی کوشش تو لاکھ کی مگر
کیا کرے وہ دل کو عزیز زیادہ ہوگیا
یہ دلگی پیام چھوڑ دے گا
اب تو وہ صنم بھی خدا ہو گیا jan kharoty
جیسے چاہا وہ بےوفا ہوگیا
یک شب غم میں گزاری ہی نہیں
وہ قیس جو عشق میں فنا ہوگیا
منکر ہواسورج کی روشنی سے پروانہ
کیا بھلا کیا جو یک شمع پے شیدا ہوگیا
جل گئے اسکے شہر اسکے عشق میں
ظالم میت پے اکے کہنے لگا کیاہو گیا
بدلنے کی کوشش تو لاکھ کی مگر
کیا کرے وہ دل کو عزیز زیادہ ہوگیا
یہ دلگی پیام چھوڑ دے گا
اب تو وہ صنم بھی خدا ہو گیا jan kharoty
بڑھ گیا تیرے ستموں کاسلسلہ بڑھ گیا تیرے ستموں کاسلسلہ
تھم گیا میرے چاہتوں کاولولہ
اس قدرشدت تھی تیری جدائی کی
طےبھی کیادل نےکچھ ستموں کافاصلہ
عطاجوکیاتم نےمجھےآسودگی
مقفل کیوں ہوا تیرے وصالوں کاشگفتہ
تک گئے تجھےمناتےمناتے میرےصنم
کب تک سینگیں یہ ترک تعلقوں کا سلسلہ
ہم بھی بھول جاہنگہےوہ وصال کے لمحے
پھرنہ رہے گا جان یہ مدتوں کا شناس
jan kharoty
تھم گیا میرے چاہتوں کاولولہ
اس قدرشدت تھی تیری جدائی کی
طےبھی کیادل نےکچھ ستموں کافاصلہ
عطاجوکیاتم نےمجھےآسودگی
مقفل کیوں ہوا تیرے وصالوں کاشگفتہ
تک گئے تجھےمناتےمناتے میرےصنم
کب تک سینگیں یہ ترک تعلقوں کا سلسلہ
ہم بھی بھول جاہنگہےوہ وصال کے لمحے
پھرنہ رہے گا جان یہ مدتوں کا شناس
jan kharoty
مجھ سے روٹھا اور پھرپوچھتا ہے جدائی کاسبب مجھ سے روٹھا اور پھرپوچھتا ہے جدائی کاسبب
کیسے بتادوں میں دنیا کو تنہائی کا سبب
تم صدیوں کی رفاقت کا کچھ خیال کرو
کبھی تو پوچھ لو مجھ سے میری بے چینی کا سبب
اسکا گمان تھا میرے بن تو کبھی خوش نہ رہو
اب ہر لمحہ مجھ سے پوچھتا ہے خوشحالی کا سبب
وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کو آشنا کر
کچھ تم بتادو تیرا اس سے آشنائی کا سبب Payam jan kharoty
کیسے بتادوں میں دنیا کو تنہائی کا سبب
تم صدیوں کی رفاقت کا کچھ خیال کرو
کبھی تو پوچھ لو مجھ سے میری بے چینی کا سبب
اسکا گمان تھا میرے بن تو کبھی خوش نہ رہو
اب ہر لمحہ مجھ سے پوچھتا ہے خوشحالی کا سبب
وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کو آشنا کر
کچھ تم بتادو تیرا اس سے آشنائی کا سبب Payam jan kharoty