Ajeeb Khauf Musallat Tha Kal Haweli Par
Poet: پروین شاکر

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
اب سفر کا استعارہ اور ہے
ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے
اس سمندر کا کنارہ اور ہے
موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے
ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
تیر سینے میں اتارا اور ہے
متن میں تو جرم ثابت ہے مگر
حاشیہ سارے کا سارا اور ہے
ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر
آسماں کا ہی اشارہ اور ہے
دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
تیز بارش کا سہارا اور ہے
ہارنے میں اک انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارا اور ہے
سکھ کے موسم انگلیوں پر گن لیے
فصل غم کا گوشوارہ اور ہے
دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری
پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے
اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں
آسماں پر ایک تارہ اور ہے
حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے
Ajeeb Khauf Musallat Tha Kal Haweli Par Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Parveen Shakir poetry in which says Ajeeb Khauf Musallat Tha Kal Haweli Par. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Parveen Shakir shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.