Poetries by Ali Ijaz Tamimi
نبی کا ذکر کیا مسکرا کے نعت پڑھی نبی ﷺ کا ذکر کیا مسکرا کے نعت پڑھی
دلوں کے زخم چھپاۓ چھپا کے نعت پڑھی
تسلیاں نہ دلاسے ہی کام جب آۓ
تو غمزدوں کو بٹھایا بٹھا کے نعت پڑھی
درود پڑھنے لگے پھول، تتلیاں، جھرنے
اناۓ باد ِ صبا کو گرا کے نعت پڑھی
غبارٍ گردشٍ دوراں تھا گھیرنے والا
یہی تھا وقت بجاۓ دعا کے نعت پڑھی
کمالٍ سیرت و صورت نبی کی ذات بنے
خدا نے جونہی بناۓ ، بنا کے نعت پڑھی
نکل گیا مری نس نس سے برتری کا فسوں
رگوں میں عشق بسایا بسا کے نعت پڑی
وہ پل صراط پہ مدحت کا رنگ تھا اعجاز
کہ پل میں پار ہوا خلد جا کے نعت پڑھی علی اعجاز تمیمی
دلوں کے زخم چھپاۓ چھپا کے نعت پڑھی
تسلیاں نہ دلاسے ہی کام جب آۓ
تو غمزدوں کو بٹھایا بٹھا کے نعت پڑھی
درود پڑھنے لگے پھول، تتلیاں، جھرنے
اناۓ باد ِ صبا کو گرا کے نعت پڑھی
غبارٍ گردشٍ دوراں تھا گھیرنے والا
یہی تھا وقت بجاۓ دعا کے نعت پڑھی
کمالٍ سیرت و صورت نبی کی ذات بنے
خدا نے جونہی بناۓ ، بنا کے نعت پڑھی
نکل گیا مری نس نس سے برتری کا فسوں
رگوں میں عشق بسایا بسا کے نعت پڑی
وہ پل صراط پہ مدحت کا رنگ تھا اعجاز
کہ پل میں پار ہوا خلد جا کے نعت پڑھی علی اعجاز تمیمی
نہ شب کا کچھ پتہ چلے نہ دن کی کچھ خبر لگے نہ شب کا کچھ پتہ چلے نہ دن کی کچھ خبر لگے
میں اس نگر میں ہوں جہاں محافظوں سے ڈر لگے
خدا ترے ملنگ ہیں یہ مست لوگ تنگ ہیں
یہاں پہ کچھ سکون ہو تو گھر بھی اپنا گھر لگے
تبھی تو ہم کو سازشوں نے سر کے بل گرا دیا
ہمی تھے بے وقوف جو کسی کی آس پر لگے
میں ہجر کے دیار میں بھٹک بھٹک کے تھک گیا
یہی کہیں تھیں منزلیں یہی کہیں تھے در لگے
مجھے بھی اس کے عشق پر ہو مان عمر بھر علی
میں اس کا صرف اس کا ہوں اسے بھی عمر بھر لگے علی
میں اس نگر میں ہوں جہاں محافظوں سے ڈر لگے
خدا ترے ملنگ ہیں یہ مست لوگ تنگ ہیں
یہاں پہ کچھ سکون ہو تو گھر بھی اپنا گھر لگے
تبھی تو ہم کو سازشوں نے سر کے بل گرا دیا
ہمی تھے بے وقوف جو کسی کی آس پر لگے
میں ہجر کے دیار میں بھٹک بھٹک کے تھک گیا
یہی کہیں تھیں منزلیں یہی کہیں تھے در لگے
مجھے بھی اس کے عشق پر ہو مان عمر بھر علی
میں اس کا صرف اس کا ہوں اسے بھی عمر بھر لگے علی
یہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے یہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے
مجـھے تــو یار ابـــھی قہقہـــے لـگانے تھـــے
اسی لیـے تو چھـــپاے ہیں جا کـے مٹی میں
وہ لـــوگ لــوگ نہیـــں قیمتی خــــزانے تھے
وہــی جـــدائی وہــی دوریــوں کا ماتــــم ہے
جــــدید دور میں صدمے وہــی پـــــرانے تھے
گھـــــڑی کی ایک سـوئی ہِل نہیں رہی جیسے
بچھـــڑتے وقـت کـا لــمحہ کئی زمـــانــے تھے
جــہانِ کـــن فیـــــکوں مجھ پہ ناز کــرتا تھا
میـــرےخـــدا و پیمبر ﷺ سے دوستانے تھے
کـــنارِ آب تھی ســــورج سے دوستی جس کا
یہاں پہ عــــکس کـــہیں اور پــــر ٹھکانے تھے
یہ کـــس نے رات کــے بارہ بـــجے اٹـــھایا ہے
ابــھی تو خـــواب مجھے روشـنی کے آنے تھے
یـہی بــیان ہـے پھر امــــن تک لـــڑیں گے ہــم
مـــــراد یہ کہ ابـــھی اور بـــم چـــــلانے تھے
تمـــہی نـے کال مـــلائی نــہیں وگـــرنہ تــــو
بـــــس ایک فــــون پہ احباب مان جانے تھے
شـــکستـگی سے بـــڑی پــختگی مـلانی تھی
یہ حـــادثات کـــسی جـــیت کــــے بہانے تھے
ہـــمیں تــــو اور بھی اعـــجاز فن دکھانا تھا
بہت سے حــــرف ســرائے سخن میں آنے تھے علی
مجـھے تــو یار ابـــھی قہقہـــے لـگانے تھـــے
اسی لیـے تو چھـــپاے ہیں جا کـے مٹی میں
وہ لـــوگ لــوگ نہیـــں قیمتی خــــزانے تھے
وہــی جـــدائی وہــی دوریــوں کا ماتــــم ہے
جــــدید دور میں صدمے وہــی پـــــرانے تھے
گھـــــڑی کی ایک سـوئی ہِل نہیں رہی جیسے
بچھـــڑتے وقـت کـا لــمحہ کئی زمـــانــے تھے
جــہانِ کـــن فیـــــکوں مجھ پہ ناز کــرتا تھا
میـــرےخـــدا و پیمبر ﷺ سے دوستانے تھے
کـــنارِ آب تھی ســــورج سے دوستی جس کا
یہاں پہ عــــکس کـــہیں اور پــــر ٹھکانے تھے
یہ کـــس نے رات کــے بارہ بـــجے اٹـــھایا ہے
ابــھی تو خـــواب مجھے روشـنی کے آنے تھے
یـہی بــیان ہـے پھر امــــن تک لـــڑیں گے ہــم
مـــــراد یہ کہ ابـــھی اور بـــم چـــــلانے تھے
تمـــہی نـے کال مـــلائی نــہیں وگـــرنہ تــــو
بـــــس ایک فــــون پہ احباب مان جانے تھے
شـــکستـگی سے بـــڑی پــختگی مـلانی تھی
یہ حـــادثات کـــسی جـــیت کــــے بہانے تھے
ہـــمیں تــــو اور بھی اعـــجاز فن دکھانا تھا
بہت سے حــــرف ســرائے سخن میں آنے تھے علی
زمین شعر کہے جیسے آسماں کے لیے ادب سے نعت کہوں ماہِ مہرباںﷺ کے لیے
زمین شعر کہے جیسے آسماں کے لیے
نہ یہ فلاں کے لیے ہے نہ یہ فلاں کے لیے
ہمارا عشق ہے بس سیدِ زماںﷺ کے لیے
بہت درود ہو اسریٰ کے اس مسافرﷺ پر
کروڑ حمد محمدﷺ کے میزباں کے لیے
حضورﷺ کرب سے آنکھیں برستی رہتی ہیں
حضورﷺ راہِ سکوں چشمہء رواں کے لیے
حضورﷺ آپ کے کہنے پہ سب سنبھلنا ہے
حضورﷺ شیریں سخن تشنہء لباں کے لیے
حضور ﷺ آپ کی پہچان ہوگئی ورنہ
سفر میں محو تھے ہم لوگ رائگاں کے لیے
حضورﷺ لطف و کرم اس دلِ شکستہ پر
حضور ﷺ عفوو رحم ایک نیم جاں کے لیے
حضورﷺ آپ کے دم سے وجودِ کون و مکاں
حضور ﷺ آپ ضروری ہیں انس و جاں کے لیے
حضورﷺ کشتیء امت ہے اب تلاطم میں
حضورﷺ اذنِ ہوا کوئی بادباں کےلیے
حضور ﷺمغربی اطوار کھا گئے اس کو
حضور ﷺآپ کی سیرت تھی نوجواں کے لیے
حضورﷺ تھک کے گرے ہیں بڑی اذیت ہے
حضورﷺ کوئی دعا ہم سے بے کساں کے لیے
حضور ﷺ عالمِ دنیا میں جی نہیں لگتا
حضورﷺ مجھ کو بتائیں میں ہوں کہاں کے لیے
حضورﷺ دل نے کہا آپﷺ سے محبت ہے
یقین جھوم کے آیا میرے گماں کے لیے
حضور ﷺ۔۔۔ عرش کے کچھ راز کب بتائےگئے
حضورﷺ اتنا کھلا ۔۔۔ ۔۔۔ہے کماں، کماں کے لیے
حضور ﷺ آپ کے دامن کی وسعتیں سن کر
حضورﷺ ہم بھی چلےآئے ہیں اماں کے لیے
حضورﷺ وہ جو کسی سے نہیں کہا میں نے
حضور ﷺ دستِ شفا اس غمِ نہاں کے لیے
حضورﷺ ۔۔۔۔۔سر پہ اداسی کا تیز سورج ہے
حضورﷺ ایک نظر میرے سائباں کے لیے
فقط درود پڑھوں اور پھر درود پڑھوں
یہی غذا ہے بہت اب مری زباں کے لیے
حضور ﷺ آپ تو جانوں سے بھی قریب ہوئے
حضورﷺ آپ ہی کافی ہیں دوستاں کے لیے
حضور ﷺ شدتِ فرقت سے نم ہوئیں آنکھیں
حضورﷺ آپ سے آقائے مہرباں کے لیے
حضورﷺ کس کو بتائیں فسانہء فرقت
حضورﷺ حرف نہیں ایک داستاں کے لیے
حضورﷺ آپ کی فرقت میں ہم تڑپتے ہیں
حضور ﷺ دید کی خیرات عاشقاں کے لیے
حضور ﷺ ذات پہ رسوائیوں کا پہرہ ہے
حضور ﷺ آئیے اب اپنے ناتواں کے لیے
حضور ﷺ آپ سے رحمت کا کیا سوال کروں؟
حضور ﷺآپ تو رحمت ہیں ہر جہاں کے لیے
حضور ﷺ آپ کے اعجاز کا قلم ٹھہرا
کہ ہاتھ باندھ کے آیا سخن بیاں کے لیے علی
زمین شعر کہے جیسے آسماں کے لیے
نہ یہ فلاں کے لیے ہے نہ یہ فلاں کے لیے
ہمارا عشق ہے بس سیدِ زماںﷺ کے لیے
بہت درود ہو اسریٰ کے اس مسافرﷺ پر
کروڑ حمد محمدﷺ کے میزباں کے لیے
حضورﷺ کرب سے آنکھیں برستی رہتی ہیں
حضورﷺ راہِ سکوں چشمہء رواں کے لیے
حضورﷺ آپ کے کہنے پہ سب سنبھلنا ہے
حضورﷺ شیریں سخن تشنہء لباں کے لیے
حضور ﷺ آپ کی پہچان ہوگئی ورنہ
سفر میں محو تھے ہم لوگ رائگاں کے لیے
حضورﷺ لطف و کرم اس دلِ شکستہ پر
حضور ﷺ عفوو رحم ایک نیم جاں کے لیے
حضورﷺ آپ کے دم سے وجودِ کون و مکاں
حضور ﷺ آپ ضروری ہیں انس و جاں کے لیے
حضورﷺ کشتیء امت ہے اب تلاطم میں
حضورﷺ اذنِ ہوا کوئی بادباں کےلیے
حضور ﷺمغربی اطوار کھا گئے اس کو
حضور ﷺآپ کی سیرت تھی نوجواں کے لیے
حضورﷺ تھک کے گرے ہیں بڑی اذیت ہے
حضورﷺ کوئی دعا ہم سے بے کساں کے لیے
حضور ﷺ عالمِ دنیا میں جی نہیں لگتا
حضورﷺ مجھ کو بتائیں میں ہوں کہاں کے لیے
حضورﷺ دل نے کہا آپﷺ سے محبت ہے
یقین جھوم کے آیا میرے گماں کے لیے
حضور ﷺ۔۔۔ عرش کے کچھ راز کب بتائےگئے
حضورﷺ اتنا کھلا ۔۔۔ ۔۔۔ہے کماں، کماں کے لیے
حضور ﷺ آپ کے دامن کی وسعتیں سن کر
حضورﷺ ہم بھی چلےآئے ہیں اماں کے لیے
حضورﷺ وہ جو کسی سے نہیں کہا میں نے
حضور ﷺ دستِ شفا اس غمِ نہاں کے لیے
حضورﷺ ۔۔۔۔۔سر پہ اداسی کا تیز سورج ہے
حضورﷺ ایک نظر میرے سائباں کے لیے
فقط درود پڑھوں اور پھر درود پڑھوں
یہی غذا ہے بہت اب مری زباں کے لیے
حضور ﷺ آپ تو جانوں سے بھی قریب ہوئے
حضورﷺ آپ ہی کافی ہیں دوستاں کے لیے
حضور ﷺ شدتِ فرقت سے نم ہوئیں آنکھیں
حضورﷺ آپ سے آقائے مہرباں کے لیے
حضورﷺ کس کو بتائیں فسانہء فرقت
حضورﷺ حرف نہیں ایک داستاں کے لیے
حضورﷺ آپ کی فرقت میں ہم تڑپتے ہیں
حضور ﷺ دید کی خیرات عاشقاں کے لیے
حضور ﷺ ذات پہ رسوائیوں کا پہرہ ہے
حضور ﷺ آئیے اب اپنے ناتواں کے لیے
حضور ﷺ آپ سے رحمت کا کیا سوال کروں؟
حضور ﷺآپ تو رحمت ہیں ہر جہاں کے لیے
حضور ﷺ آپ کے اعجاز کا قلم ٹھہرا
کہ ہاتھ باندھ کے آیا سخن بیاں کے لیے علی
جب سے بنا لیا تجھے پروردگار یار جب سے بنا لیا تجھے پروردگار یار
آتی ہے ہر طرف سے صدا یار یار یار
یہ ہجر یہ فراق ہیں قصے کہانیاں
جانے کہاں گئے ہیں سبھی دور پار یار
وہ حسن بے مثال نظر آگیا مجھے
دیکھا بصارتوں سے پرے بار بار یار
وہ دھڑکنوں کی اوٹ میں کرتا ہے گفتگو
مجھ میں بسا ہوا ہے مرے آر پار یار
دامن کو تار کر کے کوئی قیس ہو گیا
میری طرف بھی دیکھ بدن تار تار یار
جو اہلیان عشق تھے جانے کدھر گئے
اب تو بچے ہیں جھوٹ کے قول و قرار یار
اے یار دیکھ صورتیں ویران ہو گئی
مرنے پہ آ گئے ہیں ترے سوگوار یار
یاران دردمند نے خوشیوں کی دی صدا
دیکھا گیا نہ ان سے کوئی اشکبار یار
اعجاز وہ جدا تو ہوا تھا گیا نہیں
میں روز مر رہا ہوں مگر قسط وار یار علی
آتی ہے ہر طرف سے صدا یار یار یار
یہ ہجر یہ فراق ہیں قصے کہانیاں
جانے کہاں گئے ہیں سبھی دور پار یار
وہ حسن بے مثال نظر آگیا مجھے
دیکھا بصارتوں سے پرے بار بار یار
وہ دھڑکنوں کی اوٹ میں کرتا ہے گفتگو
مجھ میں بسا ہوا ہے مرے آر پار یار
دامن کو تار کر کے کوئی قیس ہو گیا
میری طرف بھی دیکھ بدن تار تار یار
جو اہلیان عشق تھے جانے کدھر گئے
اب تو بچے ہیں جھوٹ کے قول و قرار یار
اے یار دیکھ صورتیں ویران ہو گئی
مرنے پہ آ گئے ہیں ترے سوگوار یار
یاران دردمند نے خوشیوں کی دی صدا
دیکھا گیا نہ ان سے کوئی اشکبار یار
اعجاز وہ جدا تو ہوا تھا گیا نہیں
میں روز مر رہا ہوں مگر قسط وار یار علی
تھکن نہ پوچھئے پتھر سرہانے لگتے ہیں تھکن نہ پوچھیے پتھر سرہانے لگتے ہیں
جو نیند آے تیرے خواب آنے لگتے ہیں
سبک نہیں ہےکوئی بھی نظامِ اجر میاں
وفا طلب کو یہاں پر زمانے لگتے ہیں
جنہیں سمجھ ہے وہی چاہتے ہیں نام و متاع
جو بے شعور ہیں ہم کو سیانے لگتے ہیں
وہ دستِ غیب اچانک ہی تھام لیتا ہے
میرے حریف مجھے جب گرانے لگتے ہیں
ہر ایک رہ میں رہِ مستقیم مخفی ہے
تمام شہر ترے آستانے لگتے ہیں
ہمارا قلب زمانوں کے درد رکھتا ہے
ہم ایسے لوگ تو صدیوں پرانے لگتے ہیں
دیوانے لوگ بڑا نام کر کے جاتے ہیں
دیوانے لوگ بڑے ہی سیانے لگتے ہیں
انہیں تو ظلم بھی اپنے نظر نہیں آتے
ہمیں تو آئینے چہرہ دکھانے لگتے ہیں
میں کیسے دور میں لایا گیا مرے مولا
یہاں وفا جو کرو تازیانے لگتے ہیں
وہ رو پڑے مری خوشیوں کی جاں نکل جاے
وہ ہنس پڑے تو میرے غم ٹھکانے لگتے ہیں
تمام سال کرپشن کا گیت سنتا ہوں
بس ایک روز ہی قومی ترانے لگتے ہیں
یہی اعجاز ہے مجھ کو مرے بزرگوں کا
جو دل دکھے کوئی پودا لگانے لگتے ہیں Ali
جو نیند آے تیرے خواب آنے لگتے ہیں
سبک نہیں ہےکوئی بھی نظامِ اجر میاں
وفا طلب کو یہاں پر زمانے لگتے ہیں
جنہیں سمجھ ہے وہی چاہتے ہیں نام و متاع
جو بے شعور ہیں ہم کو سیانے لگتے ہیں
وہ دستِ غیب اچانک ہی تھام لیتا ہے
میرے حریف مجھے جب گرانے لگتے ہیں
ہر ایک رہ میں رہِ مستقیم مخفی ہے
تمام شہر ترے آستانے لگتے ہیں
ہمارا قلب زمانوں کے درد رکھتا ہے
ہم ایسے لوگ تو صدیوں پرانے لگتے ہیں
دیوانے لوگ بڑا نام کر کے جاتے ہیں
دیوانے لوگ بڑے ہی سیانے لگتے ہیں
انہیں تو ظلم بھی اپنے نظر نہیں آتے
ہمیں تو آئینے چہرہ دکھانے لگتے ہیں
میں کیسے دور میں لایا گیا مرے مولا
یہاں وفا جو کرو تازیانے لگتے ہیں
وہ رو پڑے مری خوشیوں کی جاں نکل جاے
وہ ہنس پڑے تو میرے غم ٹھکانے لگتے ہیں
تمام سال کرپشن کا گیت سنتا ہوں
بس ایک روز ہی قومی ترانے لگتے ہیں
یہی اعجاز ہے مجھ کو مرے بزرگوں کا
جو دل دکھے کوئی پودا لگانے لگتے ہیں Ali
ان کی محفل اور میں رسوا ہوا ان کی محفل اور میں رسوا ہوا
چھوڑئے جو بھی ہوا اچھا ہوا
جانے کب دل کی بجھے گی دید سے
یہ دیا مدت سے ہے جلتا ھوا
کہہ دیا اتنا کہ بس چاہا اسے
آپ کو معلوم کیا کیا کیا ہوا
دل ہماری اک نہیں سنتا کہ یوں
یہ بھی اک سردار کا بیٹا ہوا
دل ہمارا ٹوٹنا تھا چھوڑئے
یوں ہوا ایسا ہوا ویسا ہوا
اب مناؤ خیر اپنی یاد کی
اے ستمگر اب میں تم جیسا ہوا
جانتا ہوںمیں بھی اس اعجاز کو
ایک شاعر ہے مگر ٹوٹا ہوا Ali Ijaz Tamimi
چھوڑئے جو بھی ہوا اچھا ہوا
جانے کب دل کی بجھے گی دید سے
یہ دیا مدت سے ہے جلتا ھوا
کہہ دیا اتنا کہ بس چاہا اسے
آپ کو معلوم کیا کیا کیا ہوا
دل ہماری اک نہیں سنتا کہ یوں
یہ بھی اک سردار کا بیٹا ہوا
دل ہمارا ٹوٹنا تھا چھوڑئے
یوں ہوا ایسا ہوا ویسا ہوا
اب مناؤ خیر اپنی یاد کی
اے ستمگر اب میں تم جیسا ہوا
جانتا ہوںمیں بھی اس اعجاز کو
ایک شاعر ہے مگر ٹوٹا ہوا Ali Ijaz Tamimi